پاکستان میں بیٹی کی جبری شادی میں ملوث برطانوی خاتون مجرم قرار

خاتون نے اپنی 16سالہ بیٹی کو دھوکہ دیکر پاکستان میں اس کی جبری شادی کرائی، برمنگھم کراؤن عدالت

بدھ مئی 17:36

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) برطانوی عدالت نے پاکستانی نڑاد خاتون کو دھوکے سے اپنی بیٹی کی شادی کرانے پر مجرم قرار دے دیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برمنگھم کراؤن عدالت نے مقدمہ کی سماعت کی جس میں بتایا گیا کہ خاتون نے اپنی 16 سالہ بیٹی کو دھوکہ دیا اور پاکستان میں اس شخص سے جبری شادی کرادی جس نے تین سال قبل ان کی بیٹی کا ریپ کیا تھاجب وہ برطانیہ سے پاکستان مع اہلخانہ چھٹیاں منانے آئے تھے۔

بعدازاں خاتون اپنی بیٹی کے ہمراہ واپس برطانیہ آئیں اور بیٹی کا اسقاطِ حمل کرا دیا۔دوران سماعت وکیل نے جیوری کو بتایا کہ جب لڑکی کی عمر 18 برس کی ہوئی تو ان کی والدہ نے چھٹیاں پاکستان منانے کا بہانہ کیا اور ستمبر 2016 میں لڑکی کی شادی اسی لڑکے سے کرادی۔

(جاری ہے)

تاہم برطانیہ پہنچتے کے ہی ہوم آفس نے خاتون کو جنوری 2017 میں حراست میں لے لیا۔خاتون پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو دھوکہ دے کر جبری شادی کرائی۔

کراؤن پراسیکیوشن سروس کے عہدیدار ریڈ واے نے کہا کہ جبری شادی سنگین جرم ہے اور انسانی حقوق کے خلاف ورزی بھی۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ جب عدالت نے خاتون کے خلاف فیصلہ سنایا تو حیرانی کے عالم میں نظر آئیں جبکہ ان کی بیٹی پبلک گیلری سے تمام کارروائی دیکھ رہی تھی۔ریڈواے نے کہا کہ متاثرہ لڑکی کی ہمت کی بدولت سنگین جرم سامنے آیا اور اس پر انصاف بھی ملا۔برطانوی قانون میں جبری شادی کا قانون جون 2014 میں تشکیل پایا جو سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔