صومالیہ میں تاریخ کا خطرناک طوفان ،50 افراد ہلاک،12زخمی،27لاپتہ

ْ300مکانات منہدم،آٹھ لاکھ افرادمتاثر،بڑے پیمانے پر فصلیںتباہ،80فیصد مویشی ہلاک ہوگئے،صومالی حکام

بدھ مئی 17:36

نیویارک/موغادیشو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) قرن افریقہ میں طوفان باد و باراں کے نتیجے میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں لاپتا ہو گئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ساگر نامی سائیکلون نے قرن افریقہ میں تباہی مچائی۔ مقامی عہدے داروں کا کہنا تھا کہ ساگر، اس علاقے کی تاریخ کا اب تک کا سخت ترین طوفان ثابت ہوا ہے۔موغادیشو کے میئر عبدی رحمان عمر عثمان نے بتایا کہ ان کے علاقے میں طوفان سے کم ازکم 12افراد ہلاک ہوئے ، جب کہ صومالی دارالحکومت میں شدید بارشوں نے 300 سے زیادہ مکان منہدم کر دئیے۔

(جاری ہے)

عہدے داروں کا کہناتھا کہ عودل، ساحل اور سلال کے علاقوں میں علاقوں میں کم ازکم 35افرد ہلاک ہو گئے ۔ لوگوں نے بتایا کہ زیادہ تر اموات پانی کے ریلوں میں بہہ جانے کے نتیجے میں ہوئیں۔صومالی لینڈ کے صدر موسے عبدی نے کہا کہ 12 افراد زخمی ہوئے ہیں جب کہ 27 ابھی تک لاپتا ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ طوفان سے 7 لاکھ 70 ہزار کے لگ بھگ لوگ متاثر ہوئے ۔ بڑے پیمانے پر فصلیں تباہ ہوگئی ہیں اور 80 فی صد مویشی ہلاک ہوگئے ۔ عہدے داروں نے بین الاقوامی کمیونٹی سے مدد کی اپیل کی ہے۔صومالی حکومت اور اقوام متحدہ کی جانب سے حالیہ سیلاب سے متاثرہ جنوب وسطی علاقوں کے لیے 8 کروڑ ڈالر کی فوری مدد کی درخواست کی گئی ہے۔