شام کے صحرائی علاقے میں داعش کے حملے،26 سرکاری فوجی ہلاک

جنگجوؤں نے تاریخی شہر تدمر کے مشرق میں ایک چھوٹے فوجی اڈے پر پہلے کار بم سے حملہ کیا ،شامی آبزرویٹری

بدھ مئی 17:36

بیروت(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) شام کے صحرائی علاقے میں داعش کے جنگجوؤں کے ایک حملے میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے چھبیس فوجی ہلاک ہوگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی کہ شام کے صحرائی علاقے بادیہ میں داعش کے جنگجوؤں نے شامی فوج اور اس کی اتحادی فورسز کی ایک چوکی پر حملہ کیا اور اس میں چھبیس فوجی اور ان کے اتحادی جنگجو ہلاک ہوگئے ۔

ان میں ایرانی ملیشیا کے بعض جنگجو بھی شامل ہیں۔ رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ داعش کے جنگجوؤں نے تاریخی شہر تدمر ( پلمائرا) کے مشرق میں ایک چھوٹے فوجی اڈے پر پہلے کار بم سے حملہ کیا ۔اس کے بعد ان کی اسدی فوجیوں سے جھڑپ شروع ہوگئی تھی۔

(جاری ہے)

اس میں داعش کے پانچ جنگجو بھی مارے گئے ۔انھوں نے مزید بتایا کہ داعش کے جنگجوؤں نے بادیہ میں اپنے زیر قبضہ ایک ٹھکانے سے شامی فوجیوں پر حملہ کیا تھا۔

اسی علاقے میں دمشق کے جنوب سے بے دخل کیے گئے داعش کے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو بسوں کے ذریعے منتقل کیا گیا ہے۔شامی حکومت نے سوموار کو دمشق کے جنوب میں واقعی علاقے الحجر الاسود پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور اس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے دمشق اور اس کے تمام نواحی علاقوں پر دوبارہ مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ شامی رصدگاہ اور عسکری ذرائع کا کہناتھا کہ داعش کے زبردستی انخلا کے بعد ہی اسدی فوج کا علاقے میں کنٹرول ممکن ہوسکا ہے۔