سال قبل بھی میرا قصور وہی تھا جو آج ہے، اس وقت بھی میں عوام کی حاکمیت اور حقیقی جمہوریت کی بات کرتا تھا اور آج بھی کر رہا ہوں،

فیصلے ان لوگوں کو کرنے دیں جنہیں عوام نے فیصلے کا اختیار دیا ہے، یہ مقدمات اس لئے بنتے ہیں کیونکہ ہم عوام کی حاکمیت قائم کرنا چاہتے ہیں اور میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ عوام کی مرضی اور آئین کا احترام کیا جائے، عوام کے منتخب نمائندے ہی پالیسیاں تشکیل دیں، میں پاکستان کا بیٹا ہوں اس مٹی کا ایک ایک ذرہ مجھے جان سے پیارا ہے، کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا اپنی حب الوطنی کی توہین سمجھتا ہوں، پشاور سے کراچی تک موٹرویز بن رہے ہیں، 10 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی سسٹم میں آ چکی ہے، کراچی امن کا شہر بن چکا ہے، ہم نے وہ پاکستان دیا جو 2013ء سے زیادہ روشن اور توانا ہے، سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کا پنجاب ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب

بدھ مئی 17:41

سال قبل بھی میرا قصور وہی تھا جو آج ہے، اس وقت بھی میں عوام کی حاکمیت ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ19 سال قبل بھی میرا قصور وہی تھا جو آج ہے، اس وقت بھی میں عوام کی حاکمیت اور حقیقی جمہوریت کی بات کرتا تھا اور آج بھی کر رہا ہوں، فیصلے ان لوگوں کو کرنے دیں جنہیں عوام نے فیصلے کا اختیار دیا ہے، میں پاکستان کا بیٹا ہوں اس مٹی کا ایک ایک ذرہ مجھے جان سے پیارا ہے، کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا اپنی حب الوطنی کی توہین سمجھتا ہوں، پشاور سے کراچی تک موٹرویز بن رہے ہیں، 10 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی سسٹم میں آ چکی ہے، کراچی امن کا شہر بن چکا ہے، ہم نے وہ پاکستان دیا جو 2013ء سے زیادہ روشن اور توانا ہے، یہ مقدمات اس لئے بنتے ہیں کیونکہ ہم لوگ عوام کی حاکمیت قائم کرنا چاہتے ہیں اور میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ عوام کی مرضی اور آئین کا احترام کیا جائے، پاکستان کے عوام کے منتخب نمائندے ہی پالیسیاں تشکیل دیں۔

بدھ کو پنجاب ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے احتساب عدالت میں پڑھ کر سنایا جانے والا اپنا بیان دوبارہ پڑھتے ہوئے کہا کہ پانامہ کی بنیاد پر میرے خلاف کھوکھلے مقدمات کیوں بنائے گئے، مقدمات کا کھیل کھیلنے والے اور قوم اس کا مقصد اچھی طرح جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے نامہ اعمال میں کون سے ایسے جرائم ہیں یہ بھی قوم اچھی جانتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 12 اکتوبر 1999ء کو پرویز مشرف نے آئین سے بغاوت کی اور ایک منتخب حکومت کو گھر بھیج دیا، اس موقع پر بہت سے لوگوں نے ان کے ہاتھ بیعت کی۔ 3 نومبر 2007ء کو ایک مرتبہ پھر ایمرجنسی کے نام پر انہوں نے آئین توڑا، 60 ججوں کو انہوں نے اپنے ہی گھروں میں قید کر دیا، دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی، 2013ء کی انتخابی مہم میں ہم نے واضح طور پر کہا کہ حکومت قائم ہونے کی صورت میں ہم پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ قائم کریں گے۔

نواز شریف نے کہا کہ حکومت قائم ہونے کے بعد توانائی کے بحران پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ہم نے پرویز مشرف کے خلاف آئین سے غداری کا مقدمہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا، اس موقع پر ہمیں مشورہ نما دھمکیاں دی گئیں مگر میں اپنے ارادے پر قائم رہا، آصف علی زرداری نے اپنے بعض ساتھیوں کے ذریعے ہمیں مصلحت سے کام لینے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ پرویز مشرف سے پوچھا جائے کہ انہوں نے مسلح افواج کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے حلف کو کیوں توڑا، ایک ڈکیٹیٹر کو عدالت کے کٹہرے میں لانا کوئی آسان کام نہیں ہے، قانون سے غداری کے مرتکب ڈکٹیٹر کو نہ کوئی ہتھکڑی لگا سکا نہ کوئی سزا دی جا سکی، نوبت آئی تو اسے اپنے محل نما فارم ہائوس کو سب جیل قرار دیدیا گیا، اس ساری صورتحال کے باوجود جب میرے عزم میں کوئی کمی نہ آئی تو 2014ء میں انتخابی دھاندلی کے نام پر دھرنے دے کر مشرف کے معاملہ میں دبائو ڈالا گیا، عمران خان کے ساتھ میری بنی گالہ میں ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی تھی مگر بعد ازاں طاہر القادری اور عمران خان کی ملاقات کے بعد دھرنوں کا منصوبہ بنایا گیا، اس نے عمران خان کے منہ میں وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ ڈالا، یہ کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں رہا، عمران خان ایمپائر کی انگلی کے اشارے کی بات کرتے رہے، پارلیمنٹ ہائوس، وزیراعظم ہائوس اور پی ٹی وی سمیت کوئی بھی جگہ متاثر ہونے سے نہ رہ سکی، یہ مجھے اعصابی دبائو میں لانے کیلئے سوچا سمجھا اور انتہائی سخت حملہ تھا، وزیراعظم ہائوس کے راستہ پر شرپسندوں کا قبضہ تھا۔

نواز شریف نے کہا کہ دھرنوں کے ذریعے مجھ پر لشکر کشی کرنے کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ مشرف پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے نتائج اچھے نہیں ہوں گے، مجھے یہ تاثر دیا گیا کہ چھٹی پر چلے جائو یا مستعفی ہوجائو، یہ اس تاثر کی بنیاد پر تھا کہ نواز شریف کو راستہ سے ہٹا دیا گیا تو پرویز مشرف پر مقدمہ قائم نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھتا ہوں، ہمارے قابل قدر اور بہادر سپوتوں نے مادر وطن کے دفاع اور تحفظ کیلئے اپنے خون کے نذرانے تک پیش کر دیئے ہیں، سرحدی مورچوں پر بیٹھ کر ہمارے کل کیلئے اپنا آج قربان کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ اس لئے کیا کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد اور حق میں تھا، مجھے پاکستان کی عزت اربوں، کھربوں ڈالروں سے کہیں زیادہ عزیز ہے، جب ایک یا دو چار جرنیل حکومتی اقتدار پر بیٹھ جاتے ہیں تو فوج جیسے عظیم ادارے کے وقار پر آنچ آتی ہے، اس کے پیشہ وارانہ امور اور بین الاقوامی ساکھ متاثر ہوتی ہے، اسی لئے ہم نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھ پر من گھڑت اور جھوٹے الزامات کی بنیاد پر مقدمہ قائم کیا گیا ہے یہ اس لئے ہے کہ میں نے سرجھکا کر نوکری کرنے اور مشرف کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ خارجہ پالیسی کو قومی مفاد اور امنگوں کے مطابق بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ میرے خلاف بنائے گئے ریفرنس کی حقیقت کھل چکی ہے، استغاثہ کا کوئی گواہ میرے خلاف ثبوت پیش نہیں کر سکا، گواہوں نے عملاً میرے ہی مؤقف کی تائید کی ہے۔

نواز شریف کے ساتھ یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے کہ پاکستان کے عوام ان سے محبت کرتے ہیں، اسے بار بار ووٹ دیتے ہیں مگر اسے کبھی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی، اسے کال کوٹھڑیوں میں ڈالا گیا، طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں، ڈرایا گیا دھمکایا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ 19 سال قبل میرے ساتھ ہونے والا برتائو کیا پانامہ کی وجہ سے ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 19 سال قبل بھی میرا قصور وہی تھا جو آج ہے، اس وقت بھی میں عوام کی حاکمیت اور حقیقی جمہوریت کی بات کرتا تھا اور آج بھی کر رہا ہوں، فیصلے ان لوگوں کو کرنے دیں جنہیں عوام نے فیصلے کا اختیار دیا ہے، میں پاکستان کا بیٹا ہوں اس مٹی کا ایک ایک ذرہ مجھے جان سے پیارا ہے، کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا اپنی حب الوطنی کی توہین سمجھتا ہوں، پشاور سے کراچی تک موٹرویز بن رہے ہیں، 10 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی سسٹم میں آ چکی ہے، کراچی امن کا شہر بن چکا ہے، ہم نے وہ پاکستان دیا جو 2013ء سے زیادہ روشن اور توانا ہے، ممکن ہے کہ مجھے حکومت سے بیدخل کرنے سے کچھ لوگوں کی تسکین ہو گئی ہو مگر اس فیصلہ سے پاکستان کے عالمی سطح پر وقار اور جمہوریت کو نقصان پہنچا ہے۔

آگے بڑھتے ہوئے پاکستان کے قدموں میں زنجیریں ڈال دی گئیں، بلوچستان میں منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ’’حقیقی جمہوریت‘‘ قائم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پارٹی صدارت سے بھی بیدخل کر دیا گیا اور سینیٹ الیکشن میں ہمارے امیدواروں سے انتخابی نشان تک چھین لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب فیصلے پہلے ہو جائیں اور ’’مائنس ون‘‘ کا حصول طے پا جائے تو اقامہ جیسا فیصلہ ہی سامنے آتا ہے، نہ جانے کس کی ضرورت پوری کرنے کیلئے ایک خیال تنخواہ کو نظریہ ضرورت بنایا گیا، یہ مقدمات اس لئے بنتے ہیں کیونکہ ہم لوگ عوام کی حاکمیت قائم کرنا چاہتے ہیں اور میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ عوام کی مرضی اور آئین کا احترام کیا جائے، پاکستان کے عوام کے منتخب نمائندے ہی پالیسیاں تشکیل دیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی مفاد عزیز نہ ہو تو میرے پاس اور بھی کہنے کو بہت کچھ ہے۔

Your Thoughts and Comments