پاکستان اور کیوبا کے درمیان علم و ادب کے شعبہ میں مفاہمت کی یاداشت پر دستخط

بدھ مئی 17:28

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) پاکستان اور کیوبا کے درمیان علم و ادب کے شعبہ میں اپنی نوعیت کی پہلی مفاہمت کی یاداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیئے گئے ہیں جس کے تحت دونوں ممالک کی نیشنل لائبریریاں کتب اور تصانیف کا تبادلہ کریں گی۔ باہمی تعاون کے تحت دونوں ممالک ادبی وکتاب میلوں، کانفرنسوں اور ورکشاپس کا انعقاد کریں گے اور مشترکہ بنیادوں پر تحقیق ومطالعہ کو فروغ دیں گے۔

کیوبا کی طرف سے سفیر گیبرئیل تی ایل کاپوٹے اور پاکستان کی جانب سے وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن نے ایم او یو پر دستخط کئے۔ مشیر وزیراعظم برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ عرفان صدیقی نے پاکستان اور کیوبا کے درمیان ادب کے شعبے میں اپنی نوعیت کے اولین ایم او یو پر دستخطوں کو تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے کہاکہ کیوبا دنیا میں اپنی ایک منفرد تاریخ اور بھرپور شناخت رکھتا ہے۔

(جاری ہے)

پاکستان اور کیوبا کے علمی میدان میں تعاون سے دونوںممالک کے عوام، اہل قلم اور دانشور ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ دونوں ممالک کتاب میلوں کا انعقاد کریں گے۔ کتاب دوستی پاکستان اور کیوبا کی دوستی کی منفرد پہنچان بن کر ابھرے گی۔ انہوں نے کہاکہ مختصر مدت میں نیشنل لائبریری پاکستان میں کتب اور دیگر مخطوطات کی ڈیجٹلائزیشن کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

مطالعہ کیلئے بہترین ماحول کے لئے جامع اصلاحات کی جارہی ہیں اور سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ کیوبا کے سفیر گیبرئیل تی ایل کاپوٹے نے کہا کہ بعض لوگوں کی یہ سوچ درست نہیں کہ کتابوں کی آج کی دنیا میں اہمیت نہیں رہی۔ دراصل کتابیں اور علم ہی انسانیت کیلئے سب سے عظیم تحفہ اور ورثہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہوزے مارتی کیوبا کے ایک نامور لکھاری تھے جن کے نام سے کیوبا کی نشینل لائیبریری منسوب ہے۔

سفیر کیوبا نے بتایا کہ ہرسال فروری میں کیوبا میں بین الاقوامی کتاب میلہ منعقد کیاجاتا ہے جس میں چالیس سے زائد ممالک حصہ لیتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو اس میلہ میں شرکت کی دعوت دی۔ قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویڑن بیلاروس، ترکی اور تاجکستان کے ساتھ ایم او یوز کرچکا ہے جبکہ بلغاریہ، پرتگال اور ہنگری سے اسی نوعیت کی مفاہمت کی یادداشتوں کے حوالے سے کام جاری ہے۔