کراچی، کسٹم کورٹ نے نیٹو/ایساف کنٹینرز میں اربوں روپے ٹیکس چوری اسکینڈل میں تمام ملزمان کو بری کردیا

بدھ مئی 17:52

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) کسٹم کورٹ نے نیٹو/ایساف کنٹینرز میں اربوں روپے ٹیکس چوری اسکینڈل میں 8 سال بعد فیصلہ سنا دیا عدالت نے سات مقدمات میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا۔افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے نام پر ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکس چوری اسکینڈل بے نتیجہ ثابت ہوگیا۔کسٹم کی عدالت نی8 سال بعد پراسیکیوشن کی ناکامی پر کل سات مقدمات میں تمام ملزمان کو بری کردیا۔

(جاری ہے)

عدالتی فیصلے کے مطابق تفتیشی حکام نے تفتیش درست سمت میں نہیں کی کسٹم حکام اور گواہوں نے تسلیم کیا کہ کنٹینرز افغانستان تک پہنچانا این ایل سی کی زمہ داری تھی تفتیشی افسران نے این ایل سی حکام سے سرے سے کوئی تفتیش ہی نہیں کی کنٹینرز افغانستان تک پہنچانے کے زمہ دار ڈرائیورز تک کو مقدمات میں نامزد نہیں کیا گیا تفتیشی حکام نے افغان امپورٹرز اور ان کے دعوے سے متعلق کوئی دستاویزات پیش نہیں کیں جبکہ بری ہونے والے ملزمان میں اپرائزر سردار امین،اپرائزنگ افسر نور اکبر کلئیرنگ ایجنٹ محمد رفیق کو دیگر شامل ہیں واضح رہے 2010 میں اسکینڈل منظر عام پر انے پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایف بی آر تحقیقاتی کمیٹی نے تصدیق کی کہ کنٹینرز افغانستان پہنچانے کے بجائے پاکستان میں ہی کھول دئے گئے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے نام پر ہزاروں کنٹینرز چوری کر کے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا