فرانس،عدالت نے عصمت ریزی اور اخلاق باختگی میں ملوث پروفیسر طارق رمضان کی رہائی کی درخواست مسترد کر دی

بدھ مئی 18:05

پیرس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) فراسیسی عدالت نے عصمت ریزی اور اخلاق باختگی میں ملوث پروفیسر طارق رمضان کی رہائی کی درخواست مسترد کر دی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانس میں اپیل کورٹ نے عصمت ریزی اور اخلاق باختگی کے مقدمے میں گرفتار پروفیسر طارق رمضان کی رہائی کی درخواست مسترد کیے جانے کی توثیق کر دی۔ ان پر چار خواتین کی جانب سے آبرو ریزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

سوئس شہریت کے حامل طارق رواں برس فروری سے زیر حراست ہیں۔طارق کی غیر حاضری میں عدالت کی سماعت کے دوران وکیل دفاع امانوئل مارسینی نے ایک بار پھر 55 سالہ پروفیسر کی ناساز طبیعت کو بنیاد بنایا۔ انہوں نے کہا کہ الزام عائد کرنے والی خواتین کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔مارسینی کا کہنا تھا کہ "ایسی صورت میں جب کہ طارق کی رہائی ممکن ہو، ان کے جیل میں رہنے کا جواز نہیں۔

(جاری ہے)

ہم نے ضمانت یا نظر بندی صورت میں ان کے جیل سے باہر آنے اور ان کا پاسپورٹ حوالے کرنے کی درخواست کی"۔اس سے قبل عدالت نے چار مئی کو طارق رمضان کی رہائی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔طارق ایک اعصابی بیماری میں مبتلا ہیں۔ ایک ماہر خاتون ڈاکٹر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ طارق کی صحت اس قابل ہے کہ انہیں جیل میں رکھا جا سکے۔استغاثہ کی جانب سے زور دیا جا رہا ہے کہ طارق رمضان کے فرانس میں رہنے کو یقینی بنائے جانے کی ضرورت ہے اور شکایت کنندہ خواتین کو کسی بھی ممکنہ دبا سے محفوظ رکھا جائے۔

طارق کے وکیل نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مکل کا نئے سرے سے طبی معائنہ کیا جائے۔ وکیل کے مطابق طارق کی صحت بگڑ گئی ہے اور جیل میں ان کو مطلوبہ علاج کی سہولت میسر نہیں۔اس معاملے نے گزشتہ برس اکتوبر میں سر اٹھایا تھا جب دو خواتین نے طارق رمضان کے خلاف شکایت کی تھی جب کہ رواں برس مارچ میں ایک تیسری خاتون بھی شامل ہو گئی۔بعد ازاں چوتھی خاتون نے جنیوا میں طارق کے خلاف عصمت ریزی کا الزام عائد کیا۔۔عدالت نے اگلی سماعت کے لیے 5 جون کی تاریخ مقرر کی ہے۔