ایک سیاسی جماعت نے اتنی نفرت پھیلائی کہ احسن اقبال نے چوکیدار کا اقامہ رکھا ہوا ہے،مجھے دکھ ہوا کہ مجھے مہم کا نشانہ بنایا گیا‘مجھے گلوبل اکنامک کونسل میں ایک رکن اور لیڈر تسلیم کیا گیا جو ایوان اور ملک کیلئے قابل فخر بات ہے،

ہمیں تصدیق کے بغیر باتوں کو نہیں پھیلانا چاہیے‘ اس مصدقہ دستاویز کے بعد ٹی وی پر الزام لگانے والوں کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے‘نفرت کے بیج کم نہ کئے تو معاشرے میں اتنا بارود بکھر چکا ہے جو ہمیں جلا دینے کیلئے کافی ہے، ہم ایک ریاست ہیں، کون مسلمان ہے اور کون غیر مسلم یہ آئین فیصلہ کرتا ہے، گلی اور محلوں میں فتوے نہیں دے سکتے، عدالتیں مجاز ہیں کہ کسی کو پھانسی دیں یا قید دیں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال وزیر داخلہ نے مدینہ انسٹی ٹیوٹ آف لیڈر شپ کی طرف سے اقامے کا سرٹیفکیٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا

بدھ مئی 18:05

ایک سیاسی جماعت نے اتنی نفرت پھیلائی کہ احسن اقبال نے چوکیدار کا اقامہ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے مدینہ انسٹی ٹیوٹ آف لیڈر شپ کی طرف سے اقامے کا سرٹیفکیٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے ایک سیاسی جماعت کے ترجمان نے اتنی نفرت پھیلائی کہ احسن اقبال نے چوکیدار کا اقامہ رکھا ہوا ہے،مجھے دکھ ہوا کہ مجھے مہم کا نشانہ بنایا گیا،مجھے گلوبل اکنامک کونسل میں ایک رکن اور لیڈر تسلیم کیا گیا جو اس ایوان اور ملک کے لئے قابل فخر بات ہے، ہمیں تصدیق کے بغیر باتوں کو نہیں پھیلانا چاہیے، اس مصدقہ دستاویز کے بعد ٹی وی پر الزام لگانے والوں کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے،نفرت کے بیج کم نہ کئے تو معاشرے میں اتنا بارود بکھر چکا ہے جو ہمیں جلا دینے کیلئے کافی ہے، ہم ایک ریاست ہیں، کون مسلمانہے اور کون غیر مسلم یہ آئین فیصلہ کرتا ہے، گلی اور محلوں میں فتوے نہیں دے سکتے، عدالتیں مجاز ہیں کہ کسی کو پھانسی دیں یا قید دیں، ہم کتنی لاشیں اٹھا چکے ہیں، ہمیں ملک میں امن کے پھول کو سجانا ہے اور نفرت کو ہر سطح پر ختم کرنا ہے۔

(جاری ہے)

بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ اللہ کی مہربانی سے نئی زندگی لے کر ایوان میں دوبارہ کھڑا ہوا ہوں،6مئی کو ایک بزدل جنونی نے مجھ پر حملہ کیا، واقعہ سے چند سیکنڈ پہلے ایک شخصیت کا مجھے فون آیا میں فون سن رہا تھا کہ میری کہنی ہی میری ڈھال بن گئی ۔ انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں کے ارکان جنہوں نے اپنی دعائوں میں مجھے یاد رکھا، میں ان کا مشکور ہوں، نواز شریف اور بلاول بھٹو میری عیادت کیلئے تشریف لائے، بلاول بھٹو میرے خاندان کے ساتھ یکجہتی کررہے تھے تو ان کی آنکھوں میں بھی نمی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایک گولی جو ساری عمر میرے جسم میں رہے گی یہ یاد دلاتی رہے گی کہ نفرت کے بیج سمیٹنے کی کس قدر ضرورت ہے، نفرت کے بیج کم نہ کئے تو معاشرے میں اتنا بارود بکھر چکا ہے جو ہمیں جلا دینے کیلئے کافی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ایک ریاست ہیں، کونمسلمان ہے اور کون غیر مسلم یہ آئین فیصلہ کرتا ہے، گلی اور محلوں میں فتوے نہیں دے سکتے، عدالتیں مجاز ہیں کہ کسی کو پھانسی دیں یا قید دیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ پیغام پاکستان کے اندر علماء نے فیصلہ کیا کہ جہاد کا حکم ریاست دے سکتی ہے کوئی فرد یا گروہ یہ فیصلہ نہیں کر سکتا، ہم نے پاکستان اس لئے حاصل کیا تھا کہ ہندوستان میں مسلمان خود کوغیر محفوظ سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہر پاکستانی پاکستانی ہے اور قابل محبت اور حفاظت ہے، ہم کتنی لاشیں اٹھا چکے ہیں، ہمیں ملک میں امن کے پھول کو سجانا ہے اور نفرت کو ہر سطح پر ختم کرنا ہے،ہمارے دین نے امن کی تعلیم دی، ہم نے اسے بھلا کر نفرت کے دیئے جلانے شروع کر دیئے۔

احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان نے گلدستہ بھجوایا، جس پر شکریہ ادا کرتا ہوں لیکن مجھے خوشی ہوتی کہ یہ گلدستہ شفقت محمود، شیریں مزاری یا کوئی اور تحریک انصاف کا رہنما لاتا ،جو یہ گلدستہ لے کر آئے وہ ٹی وی پر بیٹھ کر دفاع کر رہے تھے کہ حملہ آور نے ٹھیک کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہا گیا کہ یہ اقامہ وزیر ہے، میرے خلاف بڑی تصویریں آئیں، میں انتظار کر رہا تھا کہ میرے خلاف کیس کیا جائے تو میں اس کا دفاع کروں، لیکن کوئی کیس داخل نہیں ہوا، ایک سیاسی جماعت کے ترجمان نے اتنی نفرت پھیلائی کہ احسن اقبال نے چوکیدار کا اقامہ رکھا ہوا ہے،مجھے دکھ ہوا کہ مجھے مہم کا نشانہ بنایا گیا، انہوں نے مدینہ انسٹی ٹیوٹ آف لیڈر شپ کی طرف سے سرٹیفکیٹ کے مندرجات ایوان میں پڑھ کر سنائے کہ ادارے نے انہیں اپنا رکن قرار دیا اور ایک ماہر تعلیم کی بنیاد پر انہیں یہ سہولت فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں گلوبل اکنامک کونسل میں ایک رکن اور لیڈر تسلیم کیا گیا جو اس ایوان اور ملک کے لئے قابل فخر بات ہے۔ ہمیں تصدیق کے بغیر باتوں کو نہیں پھیلانا چاہیے۔ اس مصدقہ دستاویز کے بعد ٹی وی پر الزام لگانے والوں کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔