ایس سی او نے خطے میں امن و امان کیلئے اہم کردار ادا کیا،صدر شی جن پھنگ

خطے میں سلامتی کی صورتحال نسبتاً مستحکم،سنگین چیلنجز کا اب بھی سامنا ہے باہمی اعتماد میں اضافہ کر کے سلامتی کانیا انتظامی نظام قائم کیا جائے ناصر خان جنجوعہ اور سلامتی کانفرنس میں شریک وفود کے سربراہان سے ملاقات میں اظہار خیال

بدھ مئی 18:09

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) چینی صدر شی جن پھنگ نے گذشتہ روز بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے مشیر قومی سلامتی جنرل (ر)ناصر خان جنجوعہ اور شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی سلامتی کانفرنس میں شریک مختلف ممالک کے وفود کے سربراہان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کے بعد اس تنظیم نے خطے کی سلامتی کو ترجیح دیتے ہوئے مشرقی ترکستان تحریک کی شدت پسندانہ کاروائیوں کے خلاف سخت اقدامات جبکہ انتہا پسند ی، دہشت گردی اور علیحدگی پسندوں کی حوصلہ شکنی نیز خطے میں امن و امان اور ترقی و خوشحالی کے لئے اہم کردار ادا کیا۔

شی نے کہا کہ اس وقت اس خطے میں سلامتی کی صورتحال نسبتاً مستحکم ہے تاہم سنگین چیلنجز کا سامنا بھِی ہے۔

(جاری ہے)

اس لئے تنظیم کے تمام رکن ممالک کیساتھ مل کر باہمی اعتماد میں اضافہ کرتے ہوئًے تعاون کے ذریعے سلامتی کا ایک نیا انتظامی نظام قائم کیا جائًے جس سے شنگھائی تعاون تنظیم سلامتی کے لیے تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گی۔ چینی صدر مملکت شی جن پھنگ نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کی اس تنظیم میں شمولیت کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم کے سکیورٹی تعاون میں زیادہ امکانات ہیں تاہم ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔

یہ تنظیم خطے کے مختلف ممالک کے عوام اور عالمی برادری سے مزید زیادہ توقع رکھتی ہے۔ اس طرح شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی سکیورٹی کانفرنس کے سیکرٹریز کے اجلاس کے نظام کو موجودہ بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق اپنے کردار کو مزید بہتر کرنا چاہئے۔ چینی صدر مملکت شی جن پھنگ نے مزید کہا کہ چین اپنی سلامتی کو اس خطے کی سلامتی سے ملائے گا اور چین تمام رکن ممالک کے ساتھ باہمی احترام ، انصاف اور تعاون و مشترکہ ترقی کے حامل نئے بین الاقوامی تعلقات اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے قیام کے لئے بھر پور کوشش کرتا رہے گا۔