فاٹا اصلاحات بل (کل) قومی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا

پارلیمانی رہنمائوں کا اجلاس ،ْحکومتی اتحادیوں کا فاٹا اصلاحات کے حوالے سے اختلاف رائے کا اظہار ،ْ جے یو آئی اور پختون خوا ملی عوامی پارٹی کا بائیکاٹ

بدھ مئی 18:42

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانونی امور بیرسٹر ظفر اللہ نے کہاہے کہ فاٹا اصلاحات کا آئینی بل کل) جمعرات کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق فاٹا اصلاحات کے حوالے سے پارلیمانی رہنماؤں کا پانچواں اجلاس وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہوا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں بیرسٹر ظفر اللہ نے فاٹا اصلاحات کا آئینی مسودہ پیش کیا تاہم حکومتی اتحادیوں نے فاٹا اصلاحات کے حوالے سے اختلاف رائے کا اظہار کیا۔

ذرائع کے مطابق جے یو آئی ف اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے اراکین نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ذرائع کے مطابق حکومتی اتحادیوں نے کہا کہ ہماری قومی اسمبلی کی 12 سیٹیں قائم رکھی جائیں اور ایک قومی اسمبلی کی نشست کے ساتھ دو صوبائی اسمبلی کی نشستیں دی جائیں۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق اتحادیوں نے مطالبہ کیا کہ آئی ڈی پیز جب دوبارہ واپس آئیں تو ایک بار پھر مردم شماری کی جائے۔

بعدازاں بیرسٹر ظفر اللہ نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ تمام جماعتیں فاٹا اصلاحات پر پر متفق ہو گئی ہیں ،ْآج تاریخی دن ہے، فاٹا جو علاقہ غیر تھا آج اپنا ہو گیا ہے۔۔فاٹا اصلاحات کے آئینی مسودے کے مطابق فاٹا سے قومی اسمبلی کی 12 تشستیں اور سینیٹ کی موجودہ نشستیں اگلے 5 سال تک برقرار رہیں گی ،ْایک سال میں صوبائی انتخابات ہوں گے جو الیکشن کمیشن الیکشن کرائے گا۔

فاٹا میں صوبائی قوانین کا فوری اطلاق ہو گا اور منتخب حکومت قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے فیصلہ کریگی۔این ایف سی ایوارڈ کے تحت فاٹا کو 24 ارب روپے کے ساتھ 100 ارب روپے اضافی ملیں گے اور 10 سال کے لیے 1000 ہزار ارب روپے کا خصوصی فنڈ ملے گا جو کسی اور جگہ استعمال نہیں ہو سکے گا۔۔سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھانے اور ایف سی آر کے مکمل خاتمے پر اتفاق کیا گیا ہے۔