ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور لا افسران کی بھاری تنخواہوں اورمیرٹ کے برعکس تعیناتیوں کے خلاف دائر انٹراکورٹ اپیل پر تعیناتیوں کا طریقہ کار پیش کرنے کی ہدایت

بدھ مئی 19:44

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور لا افسران کی بھاری تنخواہوں اورمیرٹ کے برعکس تعیناتیوں کے خلاف دائر انٹراکورٹ اپیل پر تعیناتیوں کا طریقہ کار پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

(جاری ہے)

درخواست گزار بیرسٹر سید محمد جاوید اقبال جعفری نے موقف اختیار کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور ان کے آفس میں لا افسران کا عہدہ آئینی نوعیت کا ہے مگر تعیناتیوں کا طریقہ کار ہی موجود نہیں، انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں حکومت پنجاب نیایک نوٹیفکیشن کے ذریعے لا افسران کی تنخواہوں میں بلاجواز اضافہ کیا، انہوں نے بتایا کہ عدالتی فائل سے اپیل کے بعض حصے غائب ہیں،انہوں نے کہا کہ آئینی عہدے پر سیاسی بنیادوں پر تعیناتی آئین سے متصادم ہے،انہوں نے استدعا کی کہ عدالت ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور لا افسران کی میرٹ کے برعکس تعیناتیوں کو کالعدم قرار دے، جس پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل آفس میں تعیناتیوں کا طریقہ کار پیش کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے رجسٹرار آفس کو دائر اپیل کا گمشدہ ریکارڈ آئندہ سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔