لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کے بزرگ پنشنرز کو مکمل پنشن ادا کرنے کا حکم دے دیا

بدھ مئی 19:51

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کے بزرگ پنشنرز کو مکمل پنشن ادا کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے بروقت حق دلانے میں تاخیر پر بھری عدالت میں بزرگ شہریوں سے معافی مانگ لی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے کیس کی سماعت کی، 75سے 80سالہ بزرگ شہریوں نے عدالت کو بتایا کہ 1960ء میں محکمہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں بھرتی ہوئے مگر انہیں 1970ء میں بھرتی تصور کر کے کم پنشن دی جا رہی ہے، عدالت نے محکمہ ٹرانسپورٹ کا موقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کے انضمام کے باوجود اگر ایم ڈی عہدے پر موجود ہے تو پینشنرز کو ان کے حق سے کیوں محروم رکھا گیا، عدالت نے کہا کہ باپ دادا کی عمر کے بزرگ شہریوں کو ان کا حق نہ ملنے پر عدالت خاموش نہیں رہ سکتی،آئین شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتا ہے، بزرگ شہری چھ سالوں سے اپنے حق کے لئے دھکے کھا رہے ہیں، کیاملک میں آئین موجود نہیں،کیس التواء میں رکھنے پر کیوں نہ محکمہ ٹرانسپورٹ کو بھاری جرمانہ عائد کیا جائے۔

(جاری ہے)

عدالت نے کہا کہ اگر بزرگ شہریوں کو ان کا حق نہیں دینا تو انہیں سرحد پار چھوڑ آئیں۔۔عدالت نے قرار دیا کہ محکمے کا نوٹیفیکیشن آسمانی صحیفہ نہیں، قانون سے متصادم نوٹیفیکیشن کی کوئی حیثیت نہیں ہے، عدالت نے بروقت حق دلانے میں تاخیر پر بھری عدالت میں بزرگ شہریوں سے معافی مانگ لی، عدالتی فیصلہ سنتے ہی بزرگ پینشنرز آبدیدہ ہو گئے، 75سے 80سالہ بزرگ پنشنرز نے پینشن کا کیس جیتنے کے بعدکمرہ عدالت سے باہر نکلتے ہی ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیتے رہے۔