فیصل آباد:پسند کی شادی کا الزام ، تین روز میں سات افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ، ماں بیٹی اور دو حقیقی بھائی بھی شامل تھے

بدھ مئی 19:59

فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) پسند کی شادی کا انظام ، تین روز میں سات افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے جن میں ماں بیٹی اور دو حقیقی بھائی بھی شامل تھے ، رمضان المبارک کے اس بابر کت مہینے میں کھیلی جانے والی خون کی اس ہولی پر پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے حوالہ سے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ، تفصیلات کے مطابق تھانہ موچیوالہ کے علاقہ چک نمبر215ج ب میں 23سالہ ارشاد بی بی نے کچھ عرصہ قبل پسند کی شادی کی تھی جس کا اس کے بھائی وزیرخان نے موقع پاکر ارشاد بی بی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا اور فرار ہو گیا ، اسی واقعہ سے ایک روز پہلے تھانہ سیٹلائٹ ٹائون کے علاقہ موضع لک بدھڑ میں دیرینہ دشمنی پر مخالفین نے فائرنگ کر کے دو حقیقی بھائیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ، 28سالہ فیصل حیات اور 30سالہ عبدالرزاق کام پر جانے کیلئے صبح سویرے سحری کے بعد گھر سے نکلے تو گھات لگائے بیٹھے مخالفین نے اندھا دھند فائرنگ کر کے انہیں قتل کر دیا اور فرار ہو گئے ، اس طرح اتوار کے روز 24گھنٹوں میں 4افراد کو موت کے گھاٹ اتار ا گیا تھا ، چک نمبر230کے رہائشی تاج نے بد چلنی کے شبہ میں اپنی بہن کوثر اور اس کی بیٹی سعدیہ کو فائرنگ کر کے موت کی نیند سلا دیا ، چک245میں نامعلوم افراد نے اقبال جبکہ تھانہ صدر کے علاقہ میں تین بچوں کو ماں صوباں بی بی کو قتل کر دیا اور فرار ہو گئے ، موضع لک بدھڑ میں دو حقیقی بھائیوں کے قاتلوں کی عدم گرفتاری اور واقعہ کے خلاف لواحقین اور مقتولوں کے دوست احباب نے احتجاجی ریلی بھی نکالی جس میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا