ڈھانڈلہ ، چھینہ اور شہانی برادران کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے باوجود بھکر کو’’سر‘‘کرناناممکن.

نوانی برادران آزاد حیثیت میں مضبوط امیدوار ہونے کیساتھ ساتھ اب مسلم لیگ کا ووٹ بھی عوامی نوانی محاذکی جھولی میں آجائے گا

بدھ مئی 20:10

ڈھانڈلہ ، چھینہ اور شہانی برادران کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے باوجود ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف میں بھکر سے ڈھانڈلہ، چھینہ اور شہانی برادران کی شمولیت کے باوجود بھکر کوالیکشن میں ’’سر‘‘ کرنا ناممکن ہے ،نوانی برادران آزاد حیثیت میں مضبوط امیدوار ہونے کے ساتھ ساتھ اب مسلم لیگ کا ووٹ بھی عوامی نوانی محاذکی جھولی میں آجائے گا ۔گزشتہ روز بھکر کے سیاسی برج جو کہ ہمیشہ پاکستان مسلم لیگ کے ٹکٹ سے کبھی ہار اور کبھی جیت کر مسند اقتدار پر وارد رہے ہیں بھکر تاریخ میں توانی برادران کا ووٹ بنک 70فیصد ذاتی جبکہ 30فیصد میں انہیں کسی پارٹی کی مدد درکار ہوتی ہے لیکن ظفراللہ خان ، افضل خان ، غضنفر چھینہ، عامر عنایت شہانی سابق الیکشن میں اس لئے گئے تھے کہ ان کے مد مقابل حریفوں کو ایک خاص پلاننگ کے تحت نااہل کروایا گیا تھااور پھر خودالیکشن لڑ کر مسلم لیگ کے ٹکٹ سے پھر بھی چند ہزار ووٹوں سے جیت نصیب ہوئی تھی اب جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ڈھانڈلہ برادران اور شہانی برادران کواپنے ساتھ ملا لیا ہے مگر حلقہ دائو پیچ کو مدنظررکھتے ہوئے پی ٹی آئی کی جیت ناممکن ہے بھکر میں اثر و رسوخ ، برادری ازم اور دیگرحلقوں کا ووٹ نوانی برادران کو بھی ملیگا۔

(جاری ہے)

چوہدری شجاعت حسین شہباز شریف سمیت دیگر سیاسی لیڈر بھکر سے بلا مقابلہ منتخب نوانی برادران کے سر پر ہوئے تھے بھکر کے معروف سیاسی تجزیہ کار اقبال بلوچ سے اس حوالے سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ڈھانڈلہ برادران کی پی ٹی آ ئی میں شمولیت خوش آئند بات ہے مگر بھکر سے جیت فی الحال مشکل ہے ۔واحد ضلع ہے جس میں صرف ایک بار پی پی پی کے ٹکٹ سے نذیر احمد اترا۔ علاوہ ازیں آزاد یا پاکستان مسلم لیگ کے ٹکٹ سے ہی امیدوار جیت کر سامنے آئے تھے اب کی بار نوانی برادران کی ہوا بن چکی ہے جبکہ ڈھانڈلہ برادران کا جیتنا بہت مشکل ہے ۔