ایوان کی اعلیٰ روایات ہیں یہاں پر غُداری کے الزامات لگانا انتہائی افسوسناک ہے،

وزیر حکومت آزادکشمیر چوہدری محمد اسحاق جب کسی کے مینڈیٹ کی توہین نہیں کی تو دوسرے کے مینڈیٹ کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے،۔ جب ہم اپنے وکیل کو غدار کہیں گے تو بین الاقوامی سطح پر ہماری بات کو ن سُنے گا ورکنگ بائونڈری پربھارتی جارحیت کی مذمت کی ۔ خواتین اور بچے شہید ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر ہمیں دست و گریباں نہیں ہونا چاہیے بلکہ مل کر بھارت کا مکروہ چہرہ اقوام عالم کے سامنے لانا چاہیے، بھارتی جمہوریت سے ڈکٹیٹر شپ بہتر ہے ،بجٹ تقریر

بدھ مئی 20:20

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) وزیر حکومت آزادکشمیر چوہدری محمد اسحاق نے قانون سازاسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جلتا ہے جن کا خُوں چراغوں میں رات بھر، اُن غم زدوں سے پوچھ کبھی قیمت سحر۔ اُنہوں نے کہا کہ ایوان کی اعلیٰ روایات ہیں یہاں پر غُداری کے الزامات لگانا انتہائی افسوسناک ہے۔ جب کسی کے مینڈیٹ کی توہین نہیں کی تو دوسرے کے مینڈیٹ کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے۔

جب ہم اپنے وکیل کو غدار کہیں گے تو بین الاقوامی سطح پر ہماری بات کو ن سُنے گا۔ ورکنگ بائونڈری پربھارتی جارحیت کی مذمت کی ۔ خواتین اور بچے شہید ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر ہمیں دست و گریباں نہیں ہونا چاہیے بلکہ مل کر بھارت کا مکروہ چہرہ اقوام عالم کے سامنے لانا چاہیے۔

(جاری ہے)

اُنہوں نے کہا کہ بھارتی جمہوریت سے ڈکٹیٹر شپ بہتر ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ میرے پاس جیل خانہ جات کا قلمدان ہونے کے باعث خواہش ہے کہ کم سے کم لوگ جیل میں جائیں بہتری کر رہے ہیں اور جو لوگ کسی جُرم کے باعث جیل میں جائیں بھی تو اچھے انسان بن کر نکلیں۔

جیلوں میں قیدیوں کی افطاری کا اہتمام کر رہے ہیں۔ نفرت جُرم سے کرنا چاہیے نہ کہ مجرم سے۔ ممبر اسمبلی محترمہ رفعت عزیز نے خطاب کرتے ہوئے بجٹ کو متوازن قرار دیا۔ ترقیاتی بجٹ میں اضافے کو سراہا۔ حکومت پاکستان کے تعان کے شُکر گذار ہیں۔ پی ایس سی اور این ٹی ایس سے میرٹ معیار بہتر ہو رہے ہیں، جو کہ لائق تحسین ہے۔ خود انحصاری کے لیے وسائل پیدا کیے جانے چاہیے۔

روزگار دینے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایل او سی پر ایمرجینسی ایمبولینسز وغیرہ کی فراہمی کو موثر بنایا جائے۔۔اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا پُر امن حل کروائیں۔ شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ بجٹ کی تائید کرتے ہیں۔ محترمہ سحرش قمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میاں محمد نواز شریف نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بُرہان وانی کو فریڈم فائیٹر قرار دیا۔ آزاد کشمیر میں ٹیچرز کی تربیت کا اچھا اقدام ہے۔ سوشل ویلفیئر کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔ خواتین51فیصد کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ہیلپ لائن ہو تاکہ بہتری کے لیے تجاویز دی جا سکیں۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک میں خواتین کا اہم کردار ہے۔ختم نبوت بل منظوری قانون سازی عُمدہ اقدام ہے۔

بجٹ کی تائید کی گئی۔ محترمہ نسیمہ خاتون نے خطاب کرتے ہوئے قائد ایوان کو کشمیر کونسل کے حوالے سے اہم پیش رفت پر مبارکباد دی۔ اُنہوں نے کہا کہ خواتین کو روزگار میں برابر حصہ دیا جائے اور قرضہ جات بھی دیے جائیں۔ محترمہ فائزہ امتیاز نے خطاب کرتے ہوئے بجٹ کو متوازن قرار دیا۔ اُنہوں نے خواتین کی مُشکلات اوربے روزگاری کے خاتمہ پر زور دیا۔