کابینہ سے فاٹا بل منظوری خوش آئند ہے ،مزید تاخیر ملک کیلئے سود مند نہیںہے، میاں افتخار حسین

بدھ مئی 20:31

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے وفاقی کابینہ سے فاٹا اصلاحات بل کی منظوری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اسمبلی سے بل متفقہ طور پر خوش اسلوبی سے پاس ہونے کے بعد فاٹا بالآخر خیبر پختونخوا کا حصہ بن جائے گا ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے بل کی منظوری ملکی تاریخ کا ایک یادگار دن ہو گا ،البتہ اس میں اب مزید تاخیر ملک کیلئے سود مند نہیں ہے، اے این پی کی ہمیشہ سے جدوجہد رہی ہے کہ فاٹاالیکشن سے قبل صوبے میں بڑے پیکج کے ساتھ ضم ہو اور اس کے بعد بلوچستان اور پختونخوا کے پختونوں کے درمیان لکیر بھی مٹا کر انہیں ایک وحدت بنانے کیلئے جدوجہد کریں گے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم نے صوبائی خود مختاری کے ذریعے اس مقصد کیلئے جدوجہد کی ، اگر پختون ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں تو انہیں اپنے حقوق کے حصول میں کبھی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ، انہوں نے کہا کہ پختون اور قبائلی عوام خوشخبری کیلئے تیار رہیں ، یہ باچا خان بابا اور ولی خان بابا کے ارمانوں کی تکمیل ہے ، انہوں نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ سال یا دو سال قبل جب ماحول بناتو اس وقت اسے عملی جامیہ پہنا دیا جاتا کیونکہ اس وقت بھی سیاسی و عسکری قوتیں ، پختون اور قبائلی عوام سمیت تمام سٹیک ہولڈرز ایک پیج پر تھے ،تو آج حالات کچھ اور ہوتے البتہ بہتر ہے اب بھی اس سلسلے میں تیزی سے کام کیا جائے تاکہ قبائلی عوام قومی دھارے میں شامل ہوکر مستفید ہو سکیں ، انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ سے بل کی منظوری کیلئے جس جس نے بھی کوششیں اور جدوجہد کی انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، انہوں نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن نے آبادی کی بنیاد پر پورے ملک میں حلقہ بندیوں کا کام ایک دن میں مکمل کر لیا لہٰذا فاٹا کیلئے الیکشن سے قبل حلقہ بندیاں مشکل کام نہیں تندہی سے کام کیا جائے تو یہ عمل ایک روز میں مکمل کیا جا سکتاہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی فاٹا انضمام کے حوالے سے روز اول سے کوششوں میں مصروف ہے اور 1990میں اس حوالے سے قرار داد بھی اسمبلی میں پیش کی گئی تھی جو ریکارڈ پر موجود تھے جبکہ فاٹا کا صوبے میں انضمام اے این پی کے انتخابی منشور کا بھی حصہ رہا ہے اور آئندہ انتخابی منشور میں بھی شامل ہو گا تاہم خوش آئند بات یہ ہوگی اگر الیکشن سے قبل فاٹا کو صوبے میں پیکج کے ساتھ ضم کر کے وہاں حلقہ بندیوں کا کام کیا جائے اور انٹخابات میں قبائلی عوام صوبائی اسمبلی کیلئے اپنے نمائندے منتخب کر سکیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے پی ٹی آئی کے سو روزہ پلان میں فاٹا انضمام کے نکتے پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ تحریک انصاف اپنے کریڈت کے چکر میں پختونوں اور قبائلی عوام کے ارمانوں کا خوش چاہتی ہے ،غلط بیانی اور دھوکہ کی حقیقت عیاں ہو چکی ہے ، 90روز میں تبدیلی کے دعویدار ایک نئئے جھوٹ کے ساتھ میدان میں اتریں گے ، خیبر پختونخوا میں ہونے والی تباہی باقی ملک کے شہریوں کیلئے بطور مثال موجود ہے ، ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ مفت گھروں کا اعلان دیوانے کا خواب ہے اور عوام ایسے شعبدہ بازوں سے دور رہیں ۔انہوں نے کہا کہ اے این پی نظریاتی جماعت ہے اور ہمیشہ پختونوں کے حقوق اور اتحاد و اتفاق کیلئے جدوجہد کرتی آئی ہے ،