سپریم کورٹ نے فوجداری مقدمات میں ایک ہی واقعہ کی دو ایف آئی آر درج کرنے کے حوالے سے کیس کا فیصلہ جاری کر دیا

بدھ مئی 20:38

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے فوجداری مقدمات میں ایک ہی واقعہ کی دو ایف آئی آر درج کرنے کے حوالے سے کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایک واقعہ کی دو ایف آئی آرز کا اندراج نہیں ہو سکتا ،،سپریم کورٹ نے فوجداری مقدمات میں پولیس کو عدالتی فیصلے پر عمل کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جوگزشتہ روز جاری کیا گیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی فوجداری مقدمہ میں پہلے ایف آئی آر کے اندراج کے بعد دوسری ایف آئی آر درج کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، پولیس کوچاہیے کہ وہ مقدمہ درج ہونے کے فوری بعد نامزد ملزم کی گرفتاری سے قبل واقعہ کے بارے میں ابتدائی تفتیش کرے، اس طرح ٹھوس شواہد یا مواد آنے تک ملزم کوگرفتار نہ کیا جائے۔

(جاری ہے)

عدالتی فیصلہ میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی واقعہ کے بارے میں نیا موقف آنے پر نئی ایف آئی آر درج نہ کی جائے تاہم اگر تحقیقات کے دوران تفتیشی افسر کے سامنے نیا پہلو سامنے آ جا تاہے تومتعلقہ شخص کا بیان ریکارڈ کیا جائے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ تفتیشی افسر کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ واقعہ کے حوالے سے تمام پہلوئوں کی تحقیقات کرے۔ تفتیشی افسر کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سچ کو سامنے لائے کیونکہ مقدمے کے اندراج کا بنیادی مقصد سچ کو سامنے لا کر اصل ملزمان کو پکڑنا ہوتا ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ وقوعہ کی تحقیقات مکمل ہونے پر چالان ٹرائل کورٹ میں داخل اورفیصلے کی نقول تمام پولیس سربراہان کو بھجوائی جائیں۔ عدالت نے آئی جیز کوہدایت کی کہ ملک بھر کے تھانوں کے افسران کو عدالت کے فیصلے سے آگاہ اور عدالتی فیصلوں پر من و عن عمل در آمد کو یقینی بنائے۔