ملاوٹ شدہ دودھ انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے، ضلع ناظم مردان

بدھ مئی 20:38

مردان۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) ضلع ناظم مردان حمایت اللہ مایار نے کہا ہے کہ ملاوٹ شدہ دودھ انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے جس میں کیمیائی اجزاء زائد مقدار میں موجود ہوتے ہیں جو انسانی جسم میں داخل ہونے پر بچوں اور بڑوں میں مختلف اقسام کے کینسر کا سبب بن سکتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ دودھ والے جانوروں کو غیر ضروری انجکشنز نہ لگائے جائیں اور عوام بھی غیر معیاری دودھ کے استعمال سے اجتناب کریں ملاوٹ شدہ دودھ بیچنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائیگی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان کے مقامی شادی ہال میں ملک ایسوسی ایشن ضلع مردان کے زیر اہتمام دودھ،دھی فروشان اور تاجروں کے ایک روزہ سیمینار سے خطاب کرتے ہو ئے کیا ۔تقریب سے خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشن ذیشان محسود،اسٹنٹ ڈائر یکٹر رخسارعلی،فوڈ سیفٹی آفیسر رقیہ نواز،وقاص محمود ، وٹر ینری آفیسر ڈاکٹر مثل خان مہمند،اسٹنٹ کمشنر ریلشن راحت علی،امن جر گہ خیبر پختونخوا کے چیئر مین سید کمال شاہ باچہ،مولانا محمد علی،سریش کمار و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

(جاری ہے)

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشن ذیشان محسود، رخسارعلی اور ڈاکٹر مثل خان نے کہا کہ دودھ صحت کے لیے بہت فائدہ مند مشروب ہے مگر اس صورت میں اگر وہ خالص ہو، اس میں ملاوٹ نہ صرف معیار ناقص کرتی ہے بلکہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔دودھ میں پانی کے ساتھ ساتھ ڈیٹرجنٹ، یوریا، سینیتھک ملک اور مختلف کیمیکلز کو ملایا جاسکتا ہے یا ملایا جاتا ہے۔

ان میں سے بیشتر کیمیکلز دودھ میں شامل ہونے کے بعد طویل المعیاد بنیادوں پر صحت پر نقصان دہ اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔اگر دودھ میں ڈیٹرجنٹ ملا ہوا ہو تو وہ فوڈ پوائزننگ اور معدے کی دیگر پچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے جبکہ دیگر کیمیکلز سے امراض قلب، کینسر اور جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔