جماعةالدعوة ،فلاح انسانیت فائونڈیشن کے زیر اہتمام چلنے والے تعلیمی اداروں، ایمبولینسوں، ہسپتالوں و دیگر رفاہی و فلاحی منصوبہ جات جاری رکھنے میں کسی قسم کی رکاوٹ کھڑی نہ کرنے کی ہدایات ،حکم امتناعی میں توسیع

بدھ مئی 20:54

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے جماعةالدعوة اور فلاح انسانیت فائونڈیشن کے زیر اہتمام چلنے والے تعلیمی اداروں، ایمبولینسوں، ہسپتالوں و دیگر رفاہی و فلاحی منصوبہ جات جاری رکھنے میں کسی قسم کی رکاوٹ کھڑی نہ کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں اور حکم امتناعی میں توسیع کرتے ہوئے وفاقی اور پنجاب حکومت سے جواب طلب کر لیا ۔

گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امین الدین خان نے جماعت الدعوة کی فلاحی سرگرمیوں میں حکومتی رکاوٹوں کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی ۔۔حافظ محمد سعید کے وکیل اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے کہا کہ جماعةالدعوة اور فلاح انسانیت فائونڈیشن کے تحت ملک بھر میں تین سو سے زائد ایمبولینسیں اور 12ہسپتال چل رہے ہیں۔ اسی طرح 142سکول قائم ہیں جبکہ پور ے ملک میں دیگر رفاہی و فلاحی منصوبہ جات بھی جاری ہیں تاہم حکومتی اقدامات سے جماعةالدعوة اور ایف آئی ایف کی ریلیف سرگرمیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے لہٰذا عدالت حکومت کو پابند کرے کہ وہ تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اوردوسرے رفاہی وفلاحی منصوبہ جات جاری رکھنے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کرے ۔

(جاری ہے)

اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کے دلائل پر فاضل عدالت نے حکم امتناعی میں توسیع کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ تاہم حکم ثانی جماعةالدعوة اور فلاح انسانیت فائونڈیشن کے رفاہی و فلاحی اداروں میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہ کی جائے تاکہ رفاہی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔وفاقی اور پنجاب حکومت کے وکلاء نے جواب داخل کرنے کیلئے مہلت طلب کی جس پر فاضل عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے 26جون تک تحریری جواب جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔کیس کی سماعت کے دوران وکلاء ، سول سوسائٹی اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد موجود تھی۔