بلوچستان سی پیک کا مرکز ہے ،پاکستان کا چین سے گہرا تعلق ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم اور مضبوط ہورہا ہے، میر عبدالقدوس بزنجو

سی پیک کی تکمیل ہمارا مقصد ہے جس سے پورے ملک میں ترقی آئے گی،وزیراعلی بلوچستان

بدھ مئی 20:58

بلوچستان سی پیک کا مرکز ہے ،پاکستان کا چین سے گہرا تعلق ہے جو وقت کے ..
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ پاکستان کا چین سے گہرا تعلق ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم اور مضبوط ہورہا ہے، سی پیک کی تکمیل ہمارا مقصد ہے جس سے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک میں ترقی آئے گی اور یہ خطہ معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنے گا،ہم امید کرتے ہیں کہ سی پیک کے منصوبوں میں بلوچستان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی کیونکہ گوادر اور بلوچستان سی پیک کا مرکز ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان میں تعینات چین کے سفیر مسٹر یاؤ جنگ Mr. Yao Jing سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں ان سے ملاقات کی۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر جام کمال بھی اس موقع پر موجود تھے۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان اور چین کا رشتہ انتہائی مضبوط ہے چین نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور ہم امید رکھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں یہ دوستی مزید گہری اور مضبوط ہوگی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان سمیت پورے خطے کی مجموعی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں میں بلوچستان کو اس کا جائز حصہ دینے اور ترقیاتی منصوبوں میں شامل کرنے سے لوگوں کے خدشات ختم ہوں گے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان سی پیک کا مرکز ہے لیکن ترقیاتی منصوبے پنجاب میں شروع کئے گئے ہیں ، ہمارے پاس شاہراہوں کی کمی ہے، پانی،، زراعت اور توانائی کے دیگر شعبوں میں بہتری لانے کے لئے حکومت اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے بہتری لارہی ہے، تاکہ سی پیک کے سلسلے میں آنے والے سرمایہ کاروں کو کسی قسم کی مشکلات اور مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان جغرافیائی اہمیت کا حامل خطہ ہے جہاں قدرتی وسائل، طویل ساحلی پٹی اور منافع بخش کاروبار کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔ حکومت چینی سرمایہ کاروں کو ہر طرح کی معاونت فراہم کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم ہمسایہ ممالک افغانستان اور ایران سے انتہائی خوشگوار تعلقات کے خواہشمند ہیں کیونکہ سرحد کے دونوں اطراف ایک زبان اور ثقافت کی حامل اقوام آباد ہیں جن کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں چین پاکستان اقتصادری راہداری سے یہ دونوں ممالک بھی بہترین تجارتی مواقع حاصل کرسکتے ہیں اور سی پیک میں افغانستان کی شمولیت سے خطہ میں تجارتی سرگرمیوںکے فروغ کے ساتھ ساتھ امن وامان میں بہتری آئے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاک افغان سرحد طویل ہے جس پر باڑ لگانے کا کام شروع ہوچکا ہے تاکہ غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والے افراد اور دہشت گردوں کا راستہ روکا جاسکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ افغانستان سے ہمارے تعلقات ہمیشہ بہتر رہے ہیں تاہم پچھلے ایک دہائی سے افغانستان میں ہندوستان کی مداخلت زیادہ ہوگئی ہے اور پاکستان سے ملحقہ سرحد کے کئی چھوٹے شہروں میں ہندوستان نے اپنے قونصلیٹ قائم کئے ہیں جن کا مقصد بلوچستان اورپاکستان میں بدامنی پھیلانا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان نے مشکل وقت میں افغانستان کا ساتھ دیا۔ بلوچستان میں ابھی تک لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین موجود ہیں۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی بھی کوئٹہ میں رہ چکے ہیں لیکن دہشت گردی کے واقعات اور دہشت گردوں کے افغان سرزمین کو استعمال کرنے کے ثبوتوں نے سرحد پر باڑ لگانے پر مجبور کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا افغانستان میں امن قائم ہونے ے اس خطہ میں تجارتی سرگرمیوں میں بہت اضافہ ہوگا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں تعینات چینی سفیر نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے چین کے لئے نیک خواہشات اور جذبہ کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ دوستی کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری چین کے لئے بھی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے جس کی تکمیل سے خطے میں تجارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا دورہ کرکے انہیں بہت خوشی محسوس ہورہی ہے اور بلوچستان کے ساتھ تعلقات آئندہ آنے والے دنوں میں مزید مستحکم ہوں گے۔ چینی سفیر نے کہا کہ انہوں نے بلوچستان کے مختلف سینیٹروں، سیاستدانوں اور معتبرین سے ملاقاتیں کی ہیں اور انہیں بلوچستان کو درپیش مشکلات کا ادراک ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ چین بلوچستان میں زراعت، پانی،، توانائی، تعلیم اور دیگر شعبوں میں صوبائی حکومت کی معاونت کرے گا اور چینی کمپنیوں کو بلوچستان کی مقامی کمپنیوں کے ساتھ Joint Venture کی طرف راغب کیا جائے گا۔

چینی سفیر نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں کابل کا دورہ کیا ہے افغانستان میں امن کے قیام اور سی پیک کے منصوبوں میں شمولیت سے خطہ میں ترقیاتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ سی پیک میں بلوچستان کے لئے بہت سے منصوبے شامل ہیں جن پر کام جاری ہے اور تمام منصوبوں میں صوبائی حکومت اور عوام کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ چینی سفیر نے وزیراعلیٰ کو سی پیک کے زیر تکمیل منصوبوں اور آئندہ کے لائحہ عمل سے بھی آگاہ کیا۔ بعدازاں وزیراعلیٰ بلوچستان اور چینی سفیر کے درمیان تحائف اور یادگاری شیلڈز کا تبادلہ ہوا۔