جنوبی وزیرستان کے آپریشن راہ نجات کے دوران تباہ شدہ فیز فور کے 16ہزار مکانات کا کینسل ہونے والا سروے بحال کردیاگیا

بدھ مئی 20:58

جنوبی وزیرستان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) جنوبی وزیرستان کے آپریشن راہ نجات کے دوران تباہ شدہ فیز فور کے 16ہزار مکانات کا کینسل ہونے والا سروے بحال کردیاگیا ۔سروے کی بحالی کے لئے جنوبی وزیرستان کے محسود اور برکی قبائل کے عمائدین نے گورنر ،کور کمانڈر پشاور اور دیگر اعلی حکومتی حکام کو خط لکھ کر اپیل کی تھی۔سرکاری زرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان کے اپریشن راہ نجات کے دوران تباہ شدہ مکانات کے فیز فور کی16ہزار مکانات کا سروے کمشنر ڈیرہ اسمعیل خا ن نے سات مئی کو کینسل کیا تھا ۔

جنوبی وزیرستان کے محسود اور برکی قبائل کے عمائدین نے سروے کینسل کرانے کے خلاف خط لکھ کر گورنر کے پی کے اقبال ظفرجھگڑااور کورکمانڈر پشاور لیفٹننٹ جنرل نزیراحمد بٹ سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ کینسل ہونے والا سروے بحال کردیں۔

(جاری ہے)

جس پر 23مئی کو بدھ کے دن پشاور میں ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا ۔اس اجلاس میں کینسل ہونے والا سروے بحال کردیا گیا ۔

جنوبی وزیرستان کے محسود اور برکی قبائل کے عمائدین نے سروے کی بحالی پر گور نر اور کورکمانڈر پشاور کے علاوہ اے سی ایس فاٹااور جنوبی وزیرستان کے پولیٹیکل ایجنٹ کا شکریہ ادا کیا ہے۔کہ انھوں نے غریب قبائلیوں کے زخموں پر مرہم پٹی رکھ دی ہے۔واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف اکتوبر 2009ء میں بڑے پیمانے پر پاک فوج نے اپریشن شروع کیا تھا ۔

اس اپریشن کی وجہ سے جنوبی وزیرستان کے محسود اور برکی قبائل کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا ۔قبائلیوں نے حکومت کا حکم مان کر علاقہ خالی کردیا ۔ان کا کہناتھا کہ جب اپریشن شروع کیا گیا تو جنوبی وزیرستان کے محسود اور برکی قبائل کے علاقوں کے تمام مکانات دہشت گردوں کے خلاف جنگ کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔پاک فوج نی8سال تک دہشت گردوں کے خلاف اپریشن جاری رکھا ۔

اپریشن مکمل کرنے کے بعد متاثرین کو اپنے اپنے علاقوں کو واپسی شروع ہوگئی۔تو حکومت نے ان متاثرین کے تباہ شدہ مکانات کا معاوضہ دینے کے لئے سروے شرو ع کیا ۔سروے میں پاک فوج ،پولیٹیکل حکام ،محکمہ بلڈنگ کے انجنئیر کے علاوہ علاقے کے عمائدین بھی شامل تھے۔ان کا کہناتھاکہ حکومت نے تباہ شدہ مکانات کے لئے معاوضہ بہت تھوڑا رکھا ہے ۔جس کے تحت مکمل تباہ شدہ مکانات کے مالکان کو چار لاکھ روپے اور جزوی تباہ شدہ مکانات کے مالکان کو ایک لاکھ ساٹھ ہزار وپے معاوضہ دینے کے لئے فارم پر کئے جاتے تھے۔

ان کا کہناتھاکہ چار لاکھ روپے سے ایک مکان کی واش روم بھی تیار نہیں ہوسکتی ہے ۔حکومت نے مکمل تباہ شدہ مکان کے لئے صرف چار لاکھ روپے رکھے ہیں پھر بھی قبائلیوں نے کوئی احتجاج نہیں کیا ۔اور اس کو کافی سمجھا ۔ان کا کہناتھاکہ سروے کو فیز ون ،فیز ٹو اور فیز تھری اور فیز فور کا نام دیکر شروع کیاگیا تھا ۔فیز ون ،فیز ٹو اور فیز تھری بخیریت مکمل ہوگئے ۔

جبکہ فیز فور میں دو خاندانوں کے درمیان باہمی چپقلش اور سروے پر اعتراض کرکے پولیٹیکل ایجنٹ اور کمشنر ڈیرہ اسمعیل خان کو درخواست دے دئے گئے۔کمشنرڈیرہ اسمعیل خان نے فیز فور کا تمام سروے کینسل کرنے کا حکم صادکیا تھا۔ قبائلی عمائدین نے مطالبہ کیا ہے کہ جن مکانات کے سروے مکمل ہوچکے ہیں ان کو رقم کی ادائیگی جلد از جلد کرانے کے لئے احکامات صادر کریں تاکہ لوگوں کو تباہ شدہ مکانات کا معاوضہ مل کر ان رقم سے وہ اپنے مکانات کی از سرنو تعمیر کرسکیں۔