صوبائی وزیر کا بارکھان میں لیویز اہلکاروں کی ایک پکوڑے فروش سے بدسلوکی کے واقعے کا نوٹس، ڈپٹی کمشنر بارکھان سے رپورٹ طلب کرلی

بدھ مئی 20:58

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) بلوچستان کے ضلع بارکھان میں لیویز اہلکاروں کی ایک پکوڑے فروش سے بدسلوکی کے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا نوٹس لے کر ڈپٹی کمشنر بارکھان سے رپورٹ طلب کرلی۔دوسری جانب ڈپٹی کمشنر بارکھان نے واقعے میں ملوث 3 اہلکاروں کو معطل کرتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔

واضح رہے کہ بارکھان کے علاقے رکھنی میں گزشتہ روز لیویز اہلکاروں کی پکوڑے فروش کے ساتھ بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا تھا۔اہلکاروں نے لیویز تھانہ رکھنی کے ساتھ لگایا گیا پکوڑہ فروش کا اسٹال اور دیگر سامان الٹ دیا تھا، جبکہ پکوڑے فروش کے ساتھ تلخ کلامی بھی کی۔واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے پکوڑے فروش کے ساتھ بدسلوکی کا نوٹس لیا اور ڈپٹی کمشنر بارکھان سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔

(جاری ہے)

سرفراز بگٹی نے ڈپٹی کمشنر کو پکوڑے فروش کا نقصان پورا کرنے اور معاوضہ ادا کرنے کی بھی ہدایت کی۔بارکھان کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد کاکڑ نے میڈیا کو کہا کہ بارکھان میں لیویز اہلکاروں کی جانب سے پکوڑا فروش سے بدسلوکی کے معاملے کی اطلاع ملتے ہی ملوث 3 لیویز اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں انکوائر ی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو اس واقعے کی مکمل چھان بین کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے، انکوائری ر پورٹ کے بعد اس حوالے سے کچھ بتا پائیں گے کہ آیا کون قصور وار ہے اور واقعہ کیوں رونما ہوا ہے تاہم پکوڑا فروش کے مالی نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔