سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کی زیر صدارت سینٹ قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کا اجلاس

اجلاس میں 2018کی حج پالیسی اور انتظامات کے حوالے سے وزارت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا

بدھ مئی 21:21

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) سینٹ قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 2018کی حج پالیسی اور انتظامات کے حوالے سے وزارت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، سیکرٹری مذہبی امور خالد مسعود چوہدری اور ایڈیشنل سیکرٹری نے قائمہ کمیٹی کو حج پالیسی بارے تفصیلی آگا ہ کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی طرف سے حجاج کو فراہم کردہ موثر سہولیات کی وجہ سے لوگوں کا رجحان سرکاری حج سکیم کی طرف نمایاں بڑھ رہا ہے۔ حج پالیسی کی کیبنٹ نے منظوری دی ہے۔

(جاری ہے)

عازمین حج سے دس دن کے اندر درخواستیں طلب کیں تھیںاور قرعہ اندازی کے ذریعے دو مراحل میں حجاج کی درخواستوں کو منتخب کیا گیا ہے۔

2012ء میں سرکاری سکیم کے کوٹے سے 5ہزار کم درخواستیں موصول ہوئیں تھیں جبکہ 2018ء میں 3لاکھ 74ہزار 857درخواستیں موصول ہوئیں ہیں۔ شمالی علاقوں سے 2 لاکھ 80 ہزار فی حاجی اور جنوبی علاقوں سے 2لاکھ 70ہزار وصول کئے جائیں گے۔ انہوں نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ فیول کی قیمتوں میں اضافے سعودی حکومت کی طرف سے ٹیکسز کی وجہ سے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے تاہم حکومت حجاج سے کوئی اضافی رقم وصول نہیں کرے گی اور 45ہزار فی حاجی کا خرچہ خود برداشت کرے گی۔

80 سال سے زائد عمر کے لوگوں کے لئے 10ہزار سیٹیں مختص کی گئی ہیں اور 12235ان افراد کو قرعہ اندازی سے اسثنیٰ دی گئی ہے جو گزشتہ 3سالوں سے حج کے لئے درخواست دے رہے تھے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ حجاج کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کم پیکج میں فراہم کی جائے جس میں کھانا بھی شامل ہوگا۔ 60 فیصد لوگ سرکاری سکیم کے تحت اور 40 فیصد پرائیوٹ ٹورز آپریٹرز کی طرف سے حج کے فرائض ادا کرسکیں گے۔

قائمہ کمیٹی کو سیکرٹری مذہبی امور نے بتایا کہ پاکستان میڈیکل مشن کو 2016ء میں نمایاں کارکردگی سرانجام دینے پر سعودی حکومت نے سرٹیفیکٹ بھی دیا۔ میڈیکل مشن میں 450افراد جن میں ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف شامل ہوگا۔ منیٰ میں بنکرز بیڈ اور پنکھوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے اور حجاج کو تین مراحل میں مناسک حج اورسعودی عرب میں پیش آنے والے مسائل کے بارے میں تربیت فراہم کی جائے گی۔

رکن کمیٹی سینیٹرراجہ محمد ظفرالحق نے کہا کہ حجاج کرام کو مناسک حج کی موثر تربیت فراہم کی جائے بے شمار لوگوں کو حج کے فرائض کا علم تک نہیں ہوتا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سرکاری سکیم کے تحت صرف ان لوگوں کو شامل کیا گیا ہے جو پہلی مرتبہ حج کے فرائض ادا کریں گے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مدینہ میں مرکزیہ میں 100فیصد رہائش حاصل کی جائے گی اور تمام عمارتوں میں آب زم زم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

فوڈ مینوئل کو بہتر کیا گیا ہے۔منیٰ اور عرفات میں تین تین دفعہ کھانا فراہم کیا جائے گا۔ کولنگ سسٹم کومزید بہتر کیا جائے گا اور معذور افراد کے لئے علیحدہ باتھ روم کا انتظام بھی ہو گا اور گزشتہ سال جو خامیاںکوتاہیاں رہ گئی تھیں ان کو پور ا کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے۔پرائیوٹ ٹورز آپریٹرز میںشامل کمپنیوں کی موثر مانیٹرنگ کی گئی ہے۔

گزشتہ سال آٹھ کمپنیوں کے خلاف شکایات آئی تھیں۔ایک کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے باقی کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے۔کمیٹی کو یہ بتایا گیا کہ دس مختلف مقامات سے حجاج کو فریضہ حج کیلئے روانہ کیا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ کوشش کی جائے کہ عازمین حج کو کم سے کم پیکج میں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔عازمین حج کی قریب ترین رہائش ، صحت ، سفر کی سہولیات کو بہتر بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ انتہائی اہم کمیٹی ہے وزارت کے ساتھ مل کر قائمہ کمیٹی ان معاملات پر زیادہ توجہ کرے گی جن کے کرنے سے دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ تعاون کو بھی فروغ دیاجاسکے اورمسالک کے مابین ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے قائمہ کمیٹی بنیادی کردار ادا کرے گی۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں قائد ایوان سینیٹ سینیٹر راجہ محمد ظفرالحق، سینیٹرز پروفیسر ساجد میر، سراج الحق اور عابدہ محمد عظیم کے علاوہ وفاقی مذہبی امور سردار محمد یوسف، سیکرٹری مذہبی امور ایڈیشنل سیکرٹری مذہبی امور، ڈپٹی سیکرٹری حج پالیسی، ڈی جی ریسرچ شعبہ حج اور ڈپٹی سیکرٹری شعبہ حج اپریشن و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔