اسلام آباد، سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلا س

وزارت انسانی حقوق نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کے افسران نے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ

بدھ مئی 21:21

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلا س میں وزارت انسانی حقوق نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کے افسران نے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ چیئرمین مصطفی نواز کھوکھر کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں وزارت انسانی حقوق کے کام کے طریقہ کار ، کارکردگی اور انسانی حقوق کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزارت انسانی حقوق میں گریڈ 17 تا22 کے 30 افسران جبکہ گریڈ1 تا16 کی189 ملازمین ہیں ۔

جبکہ وزارت انسانی حقوق کے سال 2018-19 میں ترقیاتی بجٹ 438 ملین اور غیر ترقیاتی بجٹ 300 ملین ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوشل سروسز کے حوالے سے وزارت نے خواتین کیلئے گھر، ہاسٹل ، نیشنل چائلڈ پروٹیکشن سنٹر اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن رائٹس بنائے گئے ہیں ۔

(جاری ہے)

وزارت انسانی حقوق کے سینئر افسران نے کمیٹی کو بتایا کہ سال ICT Child Protection Bill 2017 پاس ہوگیا ہے جبکہ Christian Marriage Bill ابھی تیاری کے مراحل میں ہے ۔

ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت انسانی حقوق نے ادارہ SAIEVEC کے اشتراک سے بچوں پر تشدد کے خلاف 26 ورکشاپس منعقد کیں ۔چیئرمین نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے انسانی حقوق کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کمیٹی کو بتایا کہ ادارے میں چیئرپرسن کے ساتھ 9 ممبر موجود ہیں جس میں چاروں صوبوں ، آئی سی ٹی ، فاٹا ، اقلیتوں اور ریٹائرڈ افسران کو نمائندگی دی گئی ہے ۔

سیکرٹری وزارت انسانی حقوق نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت نے ہیلپ لائن1099 قائم کی ہے جو انسانی حقوق کے حوالے سے تجاویز اور تشدد کے خلاف عوام کو رائے دیتے ہیں ۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ اب تک 11 ہزار970 کالز موصول ہوئی ہیں جس میں10 ہزا ر400 کیسوں کو حل کیا گیا ہے ۔ڈائریکٹر جنرل محمد ارشد نے کمیٹی کو بتایا کہ 203 قیدیوں کو 2.6 ملین کی مالی مدد فراہم کی گئی ہے ۔

چیئرمین نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت خزانہ نے کمیشن کو 109 ملین روپے فراہم کیے جو کہ تنخواہوں کی مد میں خرچ ہوئے۔چیئرمین کمیٹی نے صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی کے اگلے اجلاس میں سیکرٹری خزانہ کو طلب کر لیا ۔ سیکرٹری نیشنل کمیشن سٹیٹس فار وویمن نے کمیٹی کو ادار ے کے کام کے طریقے کار کے بارے میں بریفنگ دی ۔

انہوں نے بتایا کہ خواتین کا تقدس بحال کرنے کیلئے مختلف جیلوں اور دوسری جگہوں کے دورے کرتے ہیں۔ یہ ادارہ الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر خواتین کوووٹ کاسٹ کرنے کے حوالے سے شعور اجاگر کر رہا ہے ۔چیئرمین کمیٹی مصطفی نواز کھوکھر نے کمیٹی کے اگلے اجلاس میں الیکشن کمیشن کے حکام کو طلب کر تے ہوئے خواتین کے ووٹ کاسٹ کرنے کے حوالے سے بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا ۔

چیئرمین کمیٹی نے این سی ایچ آر کے حوالے سے سیکرٹری خزانہ اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو بھی طلب کر لیا ۔ کوئٹہ میں کانوں کی تباہ کارئیوں کے حوالے سے ڈی جی کان کنی نے کمیٹی کو بتایا کہ کوئٹہ میں دو مقامات پر حادثات پیش آئے جس میں 23 افراد جاں بحق ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ دو انکوائری کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جو ایک مہینے میں اپنی رپورٹ پیش کریں گی ۔

سیکرٹری جنرل مائنز لیبر فیڈریشن پاکستان نے کمیٹی کو بتایا کہ اب تک 280 اموات ہوئی ہیں ۔68 ورکرز جل گئے ہیں ۔ جاں بحق افراد کو ورکرز ویلفیئر فنڈ سے 5 لاکھ روپے ادا کیئے گئے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں ایک لاکھ سے زائد مزدور کام کر رہے ہیں جبکہ ساڑھے چھ ہزار مزدور ای او بی آئی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ریسیکو کا عملہ بھی نا تجربہ کار ہے جس کی وجہ سے اموات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔

چیئرمین کمیٹی نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا ۔ میڈیا سنسر شپ کے حوالے سے سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات نے تفصیلی بریفنگ دی ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر قانون کے خلاف کوئی کام ہوگا تو ہم اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔ ہر شخص کو آئین بولنے کا حق دیتا ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری دفاع کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا ۔

کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے قتل عام کے حوالے سے وکیل ہزارہ ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ اب تک تقریباً تین ہزار مرد جاں بحق ہوئے ہیں ،دس ہزار سے زائد افراد مشکل ترین زندگی گزار رہے ہیں ،90 ہزار خاندان پاکستان سے نقل مکانی کر چکے ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ ان کو باعزت طریقے سے واپس پاکستان لایا جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو روزگار نہیںمل رہا جس کی وجہ سے وہ دہشت گردی کی طرف راغب ہو رہے ہیں ۔

ہمارے شناختی کارڈ بلاک کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری خواتین کیلئی20 ہزار روپے کا وظیفہ مقرر کیا جانا چاہیے ۔ ایڈیشنل آئی جی کائونٹر اینڈ ٹیرارزم نے کمیٹی کو بتایا کہ پولیس ہزارہ ڈویژن کو زیاد ہ سے زیادہ سیکورٹی فراہم کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2019 میں ہزار ہ ڈویژن میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے ۔ ہوم سیکرٹری بلوچستان نے کمیٹی کو بتایا کہ 2013 میں ہزار ڈویژن کے 231 لوگ مارے گئے اور 445 زخمی ہوئے جبکہ2018 میں6 لوگ مارے گئے اور تین زخمی ہوئے ۔

ایف سی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایف سی کے چار ہزار جوا ن ہزارہ ڈویژن میں تعینات کیے گئے ہیں ۔ چیئرمین کمیٹی نے بلوچستان میں پولیس افسران کی کمی کے حوالے سے سیکرٹری اسٹبلشمنٹ اور بلوچستان میں بارڈر منیجمنٹ سسٹم کے حوالے سے وزارت داخلہ اور کوٹ اسد اللہ اور کاللن والا میں پانی کے مسئلے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا ۔

کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ز ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی ، ہدایت اللہ ، ثنا جمالی ، خیشو بائی ،رانا محمود الحسن کے علاوہ سیکرٹری وزارت انسانی حقو ق، سیکرٹری پارلیمانی افیئرز اور چیئرمین نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ ، سیکرٹری نیشنل کمیشن فار وویمن سٹیٹس ، ایڈیشنل آئی جی کائونٹر ٹیررارزم اورایف سی حکام اور متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شمیم محمود