شانگلہ میں کروڑوں روپے کی لاگت سی 132 کے وی بشام شنگ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر مسلسل التواء کا شکار

بدھ مئی 23:13

بشام(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) شانگلہ میں کروڑوں روپے کی لاگت سی 132 کے وی بشام شنگ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر مسلسل التواء کا شکار ،کروڑوں کا منصوبہ سست روی کی نظر ہوگیا گرڈ اسٹیشن منصوبہ تین سال قبل شروع کیا گیا تھا ،مگر عدم توجہی کی وجہ سے منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا ۔ رمضان المبارک سے قبل وزیر اعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام نے گرڈ اسٹیشن کو چالو اور مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا مگر اسکے باوجود ابھی تک گرڈ اسٹیشن کی مشینری نہیں پہنچائی گئی،گرڈ اسٹیشن پر کام کی رفتار سست ہونے سے بشام میں لوڈ شیڈنگ روزہ داروں کیلئے عذاب بن گئی ۔

افطاری،سحری اور نماز تروایح کے ٹائم بجلی غائب ،عوام شدید مشکلات کا شکار۔ تفصیلات کے مطابق کروڑوں کی لاگت سے تعمیر کیا جانے والا132 کے وی بشام شنگ گرڈ اسٹیشن التواء اور سست روی کی نظر ہوگیا ہے ۔

(جاری ہے)

جس کی وجہ سے بشام تحصیل اور قریبی درجنوں دیہاتوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ طویل لوڈ شیڈنگ نے ماہ صیام میں روزہ داروں کو عذاب میں مبتلا کر دیا ہے ،وزیر اعظم کے مشیر اور مسلم لیگ( ن) کے صوبائی صدر جن کا تعلق بھی اسی ضلع شانگلہ سے ہے۔

انہوں نے رمضان المبارک سے قبل اعلان کیا تھا کہ بشام شنگ گرڈ اسٹیشن کی ہیوی مشینری (ٹرانسفرمرز) لاہور سے لوڈ ہو چکے ہیں اور گرڈ اسٹیشن کا افتتاح رمضان سے قبل یعنی 10 مئی کو کر دیا جائے گا جس سے علاقے میں غیر اعلانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہو گااور بجلی کی کم وولٹیج کا بھی خاتمہ ہو گا ، مگر وزیر اعظم کے مشیرانجینئر امیر مقام کی گرڈ اسٹیشن کیلئے مشینری ابھی تک نہیں پہنچ سکی اور نہ ہی گرڈ اسٹیشن کو چالو کیا گیا، بشام میں طویل لوڈ شیڈنگ اور بجلی کم وولٹیج نے روزا داروں کا جینا محال کر دیا ہے اور پورے 24 گھنٹوں میں بمشکل 10 گھنٹے بجلی بھی نہیں ہو تی ہے ،علاقے کے عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ فی الفور وزیر اعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام اپنا وعدہ ایک دو روز میں پورا کرے کیونکہ انکی حکومت مئی کے اخر میں ختم ہو رہی ہے ورنہ عوام ماہ رمضان میں بھی ان کے خلاف سخت سے سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیںگے اور آنے والے الیکشن میںامیر مقام کو ووٹ نہیں دینگے ۔