قومی اسمبلی، وزیر اعلی سندھ کے بیان پر ایم کیو ایم کا احتجاج ،واک آئوٹ ،مراد علی شاہ سے معافی کا مطالبہ

وزیر اعلی سندھ سی48گھنٹوں میں مہاجروں سے معافی مانگیں،صوبائی اسمبلی کے فلور سے کسی بھی طبقہ کی دل آزاری اگر خود وزیراعلی سندھ کریں تو قابل افسوس ہے،نئے صوبوں کی بات کرنا غلط نہیں ہے،نئے صوبے کا مطالبہ کرنے والوں پر لعنت بھیجنے کی بجائے سوچنا چاہیے کہ ایسا کیا ہوا کہ الگ صوبے کا مطالبہ کیا گیا، مہاجروں کو تیسرے درجے کا شہری نہ سمجھا جائے، ہمیں بھی تمام سندھیوں کے برابر حقوق دیئے جائیں، ایم کیو ایم رہنمافاروق ستار کا اظہار خیال کراچی ہمارا ہے کسی کی جاگیر نہیں، کراچی قائد کا شہر ہے، پاکستان کا پہلا جھنڈا کراچی کی اسمبلی میں لہرایا گیا، یہ لوگ اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، اردو بولنے والے مہاجر نہیں پاکستانی اور سندھی ہیں، اگر کوئی سندھ کوتقسیم کرنے کی بات کرتا ہے تو اس پر لعنت نہ بھیجیں تو ہم کیا کریں یہ لوگ پہاڑ سے ٹوٹا پتھر بن گئے ہیں جن کا مقدر صرف ٹھوکریںکھانا ہے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کا فاروق ستار کو جواب

بدھ مئی 23:15

قومی اسمبلی، وزیر اعلی سندھ کے بیان پر ایم کیو ایم کا احتجاج ،واک آئوٹ ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کے بیان پر ایم کیو ایم پاکستان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے واک آئوٹ کیا ، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے وزیر اعلی سندھ سی48گھنٹوں میں مہاجروں سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہصوبائی اسمبلی کے فلور سے کسی بھی طبقہ کی دل آزاری اگر خود وزیراعلی سندھ کریں تو قابل افسوس ہے،نئے صوبوں کی بات کرنا غلط نہیں ہے،نئے صوبے کا مطالبہ کرنے والوں پر لعنت بھیجنے کی بجائے سوچنا چاہیے کہ ایسا کیا ہوا کہ الگ صوبے کا مطالبہ کیا گیا، مہاجروں نے پاکستان بنانے کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا آج انہیں تیسرے درجے کا شہری نہ سمجھا جائے، ہمیں بھی تمام سندھیوں کے برابر حقوق دیئے جائیں۔

(جاری ہے)

اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے فاروق ستار کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ کراچی ہمارا ہے کسی کی جاگیر نہیں، کراچی قائد کا شہر ہے، پاکستان کا پہلا جھنڈا کراچی کی اسمبلی میں لہرایا گیا، یہ لوگ اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، اردو بولنے والے مہاجر نہیں پاکستانی اور سندھی ہیں، اگر کوئی سندھ کوتقسیم کرنے کی بات کرتا ہے تو اس پر لعنت نہ بھیجیں تو ہم کیا کریں یہ لوگ پہاڑ سے ٹوٹا پھتر بن گئے ہیں جن کا مقدر صرف ٹھوکریںکھانا ہے۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ خورشید شاہ نے اپنی تقریر میں عدم برداشت کی بات کی ہے اس لئے انہیں آج ہماری بات سننی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم وزیر داخلہ احسن اقبال کو ایوان میں خوش آمدید کہتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ وہ مکمل صحت یاب ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کسی بھی طبقہ کی دل آزاری اگر صوبائی اسمبلی کے فلور سے خود وزیراعلی سندھ کریں تو قابل افسوس ہے۔

آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبائی اسمبلی میں ایک خاص طبقے کو نشانہ بنایا، ایم کیو ایم پاکستان نے ابھی تک جنوبی سندھ کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی باضابطہ طور پر مزید یونٹس کا مطالبہ کیا ہے، کراچی کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں جو طرز عمل دکھایا گیا ہے وہ افسوسناک ہے اس سے قبل ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انتظامی بنیادوں پر کوٹہ سسٹم کی بنیاد رکھ دی گئی تھی جس سے تقسیم کا آغاز ہوا۔

مردم شماری حلقہ بندیوں میں سندھ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، انہی اقدامات کا نتیجہ ہے کہ آج بجٹ میں کراچی کیلئے سات ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یہ سیاسی آزادی کا دور ہے پارلیمان موجود ہے اسمبلیاں موجود ہیں، ایسے میں لوگوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے،نئے صوبوں کی بات کرنا غلط نہیں ہے، اب جنوبی پنجاب کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو کیا وسطی پنجاب والے کہیں کے ایسی سوچ پر لعنت ہے، ہمیں لعنت بھیجنے کی بجائے سوچنا چاہیے کہ ایسا کیا ہوا کہ الگ صوبے کا مطالبہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مہاجروں نے پاکستان بنانے کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا مگرانہیں تیسرے درجے کا شہری نہ سمجھا جائے، ہمیں بھی تمام سندھیوں کے برابر حقوق دیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کے بیان پر علامتی واک آئوٹ کرتا ہوں، جس کے بعد ایم کیو ایم کے ارکان ایوان سے واک آئوٹ کرگئے۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی میں اردو، بلوچی، پنجابی، پختون، ہندکو بولنے والے ہیں، کراچی ہمارا ہے کسی کی جاگیر نہیں، کراچی قائد کا شہر ہے، کراچی سندھ اور پاکستان کا دارالخلافہ رہا ہے، کراچی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان کا پہلا جھنڈا کراچی کی اسمبلی میں لہرایا گیا، یہ لوگ اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے، میں مہاجر نہیں مانتا کیونکہ مہاجر تو دو سے تین ماہ بعد چلا جاتا ہے، اردو بولنے والے پاکستانی ہیں اور سندھی ہیں ہم اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیسے بول سکتے ہیں، جو شخص ایوان میں موجود نہیں اس کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے، وزیراعلیٰ سندھ نے پتہ نہیں کسی تناظر میںبات کی، اگر کوئی سندھ کوتقسیم کرنے کی بات کرتا ہے تو اس پر لعنت نہ بھیجیں تو ہم کیا کریں یہ لوگ اپنے ہی لوگوں کو مارتے ہیں اور اپنے ہی لوگوں کے گھر اجاڑتے ہیں، آج بھی کراچی میں 38ارب کے منصوبے چل رہے ہیں، مشرف کے ساتھ مل کر انہوں نے بارہ مئی کو گولیاں ماریں، جنرل کی جوتیاں اٹھائیں، کبھی کسی جماعت کبھی کسی جماعت کے ساتھ بیٹھتے ہیں، آپ پہاڑ سے ٹوٹے پر پھتر بن گئے ہیں ٹھوکریں ہی کھائو گے، عجیب لوگ ہیں مارتے بھی ہیں اور پھر روتے بھی ہیں، عبدالرشید گوڈیل کو ماں کی دعائیں تھی کہ اسے کچھ نہیں ہوا، اب عبدالرشید گوڈیل کو کراچی نہیں جانے دیا جاتا۔