نواز شریف دکھی دل سے کارگل پر بات کرتے ہیں مگر سیاچین پر بات نہیں ،فواد چوہدر ی

وہ غالباً مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کا حصہ سمجھتے ہیں، نواز شریف کہتے ہیں کہ اسلام آباد دھرنا اسٹیبلشمنٹ کی سازش تھی ،ایک کانسپریسی تھیوری یہ بھی ہے کہ دھرنا ختم کرانے کیلئے اے پی ایس کا سانحہ ہوا تھا، کیا سانحہ کے ساتھ نواز شریف کا کنکشن ہے، اگر نواز شریف افتخار چوہدری کی بحالی کیلئے تحریک چلائیں تو ہ سیاسی تحریک ہے، اگر نواز شریف کے خلاف دھرنا ہوتو اسے فوج سپانسر کررہی ہے، اب احتساب عمل روکے گا نہیں بلکہ تیز ہوگا پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدر ی کا پریس کانفرنس سے خطاب

بدھ مئی 23:15

نواز شریف دکھی دل سے کارگل پر بات کرتے ہیں مگر سیاچین پر بات نہیں ،فواد ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدر ی نے کہا ہے کہ نواز شریف دکھی دل سے کارگل پر بات کرتے ہیں مگر سیاچین پر بات نہیں کرتے ، نواز شریف غالباً مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کا حصہ سمجھتے ہیں، نواز شریف کہتے ہیں کہ اسلام آباد دھرنا اسٹیبلشمنٹ کی سازش تھی ،ایک کانسپریسی تھیوری یہ بھی ہے کہ دھرنا ختم کرانے کیلئے اے پی ایس کا سانحہ ہوا تھا، کیا سانحہ کے ساتھ نواز شریف کا کنکشن ہے، اگر نواز شریف افتخار چوہدری کی بحالی کیلئے تحریک چلائیں تو ہ سیاسی تحریک ہے، اگر نواز شریف کے خلاف دھرنا ہوتو اسے فوج سپانسر کررہی ہے، اب احتساب عمل روکے گا نہیں بلکہ تیز ہوگا۔

بدھ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدر ی نے کہا کہ نواز شریف اپنی منی ٹریل پر بات نہیں کرتے، نواز شریف کا ماننا ہے کہ اگر فوج ان سے ناراض نہ ہوتی تو ان کے خلاف تحقیقات نہ ہوتیں، 5جولائی 1977میں ذوالفقار بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا گیا، اور ضیاء الحق کا مارشل لاء لگا، 1979میں صرف شریف خاندان کی انڈسٹری سود سمیت لوٹائی گئی، نواز شریف نے جنرل ضیاء الحق کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولا، نواز شریف کی حکومت 1993میں کرپشن کی الزامات پر طرف ہوئی، 1994میں نواز شریف نے غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں الزام لگایا کہ جنرل (ر) اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی نے کہا کہ ان کو ہیروئن بھیجنے کی اجازت دی، اس کے بعد 2مرتبہ نواز شریف اقتدار میں آئے مگر انہوں نے جنرلزکے خلاف کاروائی نہیں کی۔

(جاری ہے)

فواد چوہدری نے کہا کہ اصغر خان کیس کے مطابق نواز شریف نے جنرل (ر) اسلم بیگ اور جنرل (ر) اسد درانی سے پیسے لیئے، جاوید ہاشمی بھی آئی جی آئی کے وقت 87لاکھ روپیہ کیش وصول کیا، الطاف حسین اور عابدہ حسین نے کیش میں رقم وصول کی۔ ایک طرف تو یہ آئی ایس آئی سے پیسے وصول کررہے ہیں دوسری جانب ان کے خلاف تقریریں بھی کررہے ہیں، نواز شریف دکھی دل سے کارگل پر بات کرتے ہیں مگر سیاچین پر بات نہیں کرتے ، مقبوضہ کشمیر ہندوستان کا حصہ نہیںہے، نواز شریف غالباً مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کا حصہ سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کا موجودہ کردار برا ہے یا ماضی میں نواز شریف اور شہباز شریف کی جانب سے عدالت کو دبائومیں لانا درست تھا، پانامہ اسکینڈل (آئی ایس آئی) یا عدلیہ نے بریک نہیں کیاتھا بلکہ یہ بین الاقوامی سیکنڈل ہے، نواز شریف کا گلہ یہ ہے کہ فوج اور عدلیہ نے اس اسکینڈل کی تحقیقات کیوں لیں، پانامہ معاملے پر آئس لنیڈ کے وزیراعظم کو گھر جانا پڑا، نواز شریف کا مقصد اپنی جائیداد بچانا ہے، نواز شریف کہتے ہیں کہ اسلام آباد دھرنا اسٹیبلشمنٹ کی سازش تھی ،ایک کانسپریسی تھیوری یہ بھی ہے کہ دھرنا ختم کرانے کیلئے اے پی ایس کا سانحہ ہوا تھا، کیا سانحہ کے ساتھ نواز شریف کا کنکشن ہے، انہوں نے کہا کہ ان آزاد کے مقدمات پر نواز شریف کی پٹیشن پر مانیٹرنگ جج لگا تھا، احتساب عدالت کے قانون میں ان کی حکومت میں یہ شق ڈالی گئی کہ دہشتگردی کے مقدمات میں مانیٹرنگ جج بیٹھے گا، نواز شریف کی پٹیشن پر حسین حقانی کے کیس میں سپریم کورٹ نے مانیٹرنگ کی، اگر نواز شریف افتخار چوہدری کی بحالی کیلئے تحریک چلائیں تو ہ سیاسی تحریک ہے، اگر نواز شریف کے خلاف دھرنا ہوتو اسے فوج سپانسر کررہی ہے، کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے، نواز شریف کے خلاف مقدمہ 134دن سپریم کورٹ میں چلا اور ایک سال سے نیب میں چل رہا ہے ، لیکن انہوں نے سوالات کے جوابات نہیں دیئے، نواز شریف ایون فیلڈ پر اپرٹیز کی خریداری میں ذریعہ آمدن کیا تھا 300ارب روپیہ نواز شریف کے بچون کے 16اکائونٹس میں کہاں سے آیا اگر ان سوالات کے جوابات مل جائیں تو نواز شریف کا کانسپریسی تھیوریز کی جانب نہیں جانا پڑے گا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ نواز شریف کے نزدیگ ریاست اور اداروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے، نواز شریف کے نزدیک ان کی ذات کی اہمیت ہے۔ نواز شریف (ن) لیگ کو شکست کا سامنا ہے۔ انتقال اقتدار کے پرسکون عمل کی وجہ سے عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بنیں گے، اب احتساب عمل روکے گا نہیں بلکہ تیز ہوگا۔