روہنگیا مسلم شدت پسندوں نے ہندوئوں کا قتل عام کیا، ایمنسٹی انٹرنیشنل

ارسا نامی مسلم گروہ نے 99ہندوئوں کا موت کے گھاٹ اتارا،ارسا نے تمام الزامات سختی سے مسترد کر دئیے

بدھ مئی 23:18

جنیوا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ روہنگیا مسلم شدت پسندوں نے ہندوئوں کا قتل عام کیا،ارسا نامی مسلم گروہ نے 99ہندوئوں کا موت کے گھاٹ اتارا،مسلم گروہ ارسا نے تمام الزامات سختی سے مسترد کر دئیے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیقات کے مطابق روہنگیا مسلمان شدت پسندوں نے گذشتہ سال اگست میں مختلف حملوں کے دوران درجنوں ہندو شہریوں کو ہلاک کیا تھا۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ کے مطابق، ارسا نامی اس گروہ نے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے ایک یا دو واقعات میں 99 ہندو شہریوں کو قتل کیا تاہم، ارسا نے ایسا کوئی بھی حملہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ہلاکتوں کے یہ واقعات میانمار کی فوج کے خلاف بغاوت کے ابتدائی دنوں میں پیش آئے۔

(جاری ہے)

میانمار کی فوج پر بھی اس قسم کے تشدد کا الزام لگایا جاتا ہے۔

گذشتہ سال اگست سے میانمار میں سات لاکھ روہنگیا اور دیگر افراد کو تشدد کی وجہ سے نقل مکانی کرنی پڑی ہے۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس نے بنگلہ دیش اور ریاست رخائن میں متعدد پناہ گزینوں کے انٹرویو کیے، جن سے تصدیق ہوئی کہ آراکان روہنگیا سالویشن آرمی یا ارسا کے ارکان نے یہ اگست 2017 کے اواخر میں شمالی مونگدا میں واقع دیہات میں کیے تھے۔تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ارسا دوسرے علاقوں میں شہریوں کے خلاف چھوٹے پیمانے کے تشدد کی ذمہ دار بھی ہے۔

آہنوک کھامونگ سیک نامی گاں کی ایک خاتون نے کہا، انھوں نے مردوں کو مار ڈالا، ہم سے کہا گیا کہ ان کی طرف نہ دیکھیں۔ ان کے پاس خنجر تھے۔ کچھ نیزے اور لوہے کے راڈز بھی تھے۔ ہم جھاڑیوں میں چھپے ہوئے تھے اور وہاں سے کچھ کچھ دیکھ سکتے تھے۔یہاں 20 مردوں، 10 عورتوں اور 23 بچوں کو قتل کرنے کے الزامات ہیں، جن میں سے 14 کی عمر 8 سال سے کم تھی۔ایمنسٹی نے کہا کہ پچھلے سال ستمبر میں اجتماعی قبروں سے 45 افراد کو لاشیں نکالی گئیں۔ تاہم قریبی دیہات ییبوک کیار کے 46 افراد کی لاشیں تاحال نہیں ملیں۔یہ انکوائری شمالی ریاست رخائن میں ارسا کی جانب سے انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالتی ہے، جسے خبروں میں زیادہ اجاگر نہیں کیا گیا۔