محکمہ سماجی بہبود خیبر پختونخوا نے 2013سے 2018 تک صوبے میں خصوصی بچوں کی تعلیم کیلئے 13منصوبے مکمل کیے ، رپورٹ

بدھ مئی 23:38

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) محکمہ سماجی بہبود خیبر پختونخوا نے 2013سے 2018 تک صوبے میں خصوصی بچوں کی تعلیم پر توجہ دیتے ہوئے 13منصوبے مکمل کیے ہیں، محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے پانچ سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی ہے جس کے مطابق پانچ برسوں کے دوران محکمے کے سالانہ ترقیاتی بجٹ میں گزشتہ حکومتوں کی نسبت کئی گناہ اضافہ ہوا،گزشتہ پانچ سالوں میں خصوصی بچوں کی تعلیم پرخصوصی توجہ دی گئی ہے ،اس مدت کے دوران خصوصی بچوں کے لیے پانچ نئے سکول قائم کئے گئے ہیں اسکے علاوہ آٹھ سکول مڈل سے ہائی سطح تک اپ گریڈ کر دئیے گئے ہیںاور خصوصی سکولوں کو 85 کمپیوٹرز مہیاکئے گئے ہیں ،صوبے میں بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے موجود چائلڈ پروٹیکشن اور ویلفیئر کمیشن کو گزشتہ پانچ سالوں میں پانچ کروڑ 73لاکھ کی گرانٹ فراہم کی گئی جسکی بدولت بچوں کے تحفظ اور بہبودکے کئی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

اسکے علاوہ سٹریٹ چلڈرن کو سٹیٹ چلڈرن کا درجہ دینے کے لئے زمونگ کو ر کے نام سے ایک ایسا بااختیار ادارہ بنا یا گیا ہے جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد ادارہ ہے ۔2016 سے لیکر اب تک 191سٹریٹ چلڈرن کو ادارے میں داخل کرایا گیا ہے جہاں انکی تعلیم وتربیت فراہم کی جارہی ہے ۔ صوبے کے مختلف علاقوںمیں تین سوشل ویلفیئرکمپلیکس کی تعمیر ،سات ویلفیئر ھومز کا قیام، منشیات کے عادی فراد کے علاج وبحالی کے چار مراکز کا قیام بھی گزشتہ پانچ سالوں کے دوران عمل میں لایا گیا ہے ،،منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے رفاہی تنظیم کو 150ملین روپے گرانٹ فراہم کی گئی جسکے باعث 4ہزار سے زائد افراد کا علاج کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق تنظیم لسائل ولمحروم کے ترقیاتی پراجیکٹ کو لسائل و لمحروم فائونڈیشن ایکٹ 2015کے ذریعے مستقل کیا گیا، اس فائونڈیشن کے قیام سے ابتک 665بے سہارا اور بیوہ خواتین کو ہنر سکھائے گئے، 2600طلباء کے تعلیمی اخراجات اٹھائے گئے جبکہ سینکڑوں نادار مریضوں کا مفت علاج کیا گیا، رپورٹ میں بتایا گیا ہے موجودہ حکومت نے اپنے دور میں خواجہ سرائوں کی فلاح و بہبود پر بھی خصوصی توجہ دی ہے 2103 سے ابتک 1465 خواجہ سرائوں کی رجسٹریشن کے علاوہ 2215خواجہ سرائوں کو صحت انصاف کارڈ جاری کئے گئے ہیں خواجہ سراوں کے لئے ٹرانس جینڈر پالیسی کی تیاری بھی آخری مراحل میں ہے ۔

خواتین کو ان کے حقوق دینے کے لئے وقار نسواں ایکٹ 2016کو مالی اور انتظامی طور پر خومختار بناکر اسکی فعالیت مزید بہتر کردی گئی ہے ۔دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں اور خواتین کی معاشی تر قی کے لئے موجودہ صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ125 سے زائد صنعتی تربیتی مراکز قائم کیے ہیں ،جس میں خواتین کو مختلف ہنر کی تربیت فراہم کی جارہی ہے۔

باروزگار خواتین کو دوران کام موافق ماحول کی فراہمی کی غرض سے حکومتی سطح پر پالیسی وضع کرکے پیش کی گئی۔ محکمہ سماجی بہبود نے خواتین کے خلاف گھریلوتشدد کی روک تھام اور تشدد کی شکار خواتین کی رہنمائی کے لیے ٹول فری ہیلپ لائن بولو اور بدلو کا اجراء بھی کیا ہے، اسکے علاوہ گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کی مدد کے لئے پشاور کے تین تھانوں گلبہار ، فقیر آباد اور یونیورسٹی ٹائون میں خواتین ڈیسک کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ معمر افراد کے تحفظ کے لئے سینئر سیٹیزن ایکٹ 2014 منظور کروایا ہے جسکا مقصد معمر افراد کی صحت سہولیات تک رسائی آسان بنانا اور انھیں دیگر حقوق کی فراہمی ممکن بنانا ہے ۔