پی ٹی آئی نے 90دن کا ایجنڈا دیا تھا جو پانچ سال میں بھی مکمل نہیں ہو سکا، 100روزہ پلان صرف ڈرامہ ہے، سکندر حیات

بدھ مئی 23:38

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر حیات خان شیرپائو نے پی ٹی آئی نے 90دن کا ایجنڈا دیا تھا جو پانچ سال میں بھی مکمل نہیں ہو سکا، 100روزہ پلان صرف ڈرامہ ہے،پی ٹی آئی کی محکموں میں اصلاحات کے دعوے تو بہت پہلے عوام پر عیاں ہو چکے تھے اور اب ان کی اچھی حکمرانی کے دعوئوں کی قلعی یو این ڈی پی کی رپورٹ نے کھول کر رکھ دی ہے۔

وہ گائوں شیرپائو میں تحصیل تنگی کے پارٹی کارکنوںکے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔انھوں نے کہا کہ انتخابات قریب ہیں پارٹی کارکن ابھی سے تیاریاں شروع کرے۔انھوں نے عمران خان کا ایک سو روزہ پروگرام عوام کو تبدیلی کی طرح ایک بار پھر دھوکہ دینے کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت جو کام صرف ایک صوبہ میں پانچ سالوں میں نہ کرسکی وہ تین مہینوں میں پورے ملک میںکیسے کرے گی انھوں نے کہا کہ عوام پی ٹی آئی کی محض نعروں سے بخوبی آگاہ ہوچکے ہیں اور ان کو مزید اس قسم کے بے سروپا پروگراموں پر ٹرخایا نہیں جا سکتا۔

(جاری ہے)

سکندر شیرپائو نے کہا کہ پی ٹی آئی عملی کام اور اقدامات کی بجائے محض دعوئوں اورخالی خولی نعروں پر یقین رکھنے والی جماعت ہے جس کے پاس عوام کی خوشحالی اور ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے کوئی ٹھوس پروگرام نہیں انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام جاننا چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین کے اعلان کے مطابق 350ڈیم کہا تعمیر کئے گئے ہیں اسی طرح بلین ٹریز سونامی ،،پشاور بیوٹیفیکیشن ،بی آر ٹی کا بے وقت منصوبہ اورمحکموں میں اصلاحات کے دعویدارتمام سطحوں پر مکمل طور ناکام ہو چکے ہیں اور 2013کے انتخابات میں تبدیلی کے نعرہ پر خیبر پختونخوا کے عوام سے ووٹ بٹورنے والے 2018کے الیکشن میں ایک سوروزہ پروگرام کے ڈرامہ میں کبھی بھی عوام کو ایک اور دھوکہ دینے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

سکندر شیرپائو نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام آنے والے انتخابات میں شوشے چھوڑنے والوں کو بری طرح مسترد کرکے اپنے لئے مخلص اوردیانتدار نمائندوں کاچنائو کریں گے۔انھوں نے کہا کہ قومی وطن پارٹی صوبہ اور پختونوں کے حقوق کی محافظ جماعت ہے اور ان کے حق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دے گی۔اس موقع پر کیو ڈبلیو ضلع چارسدہ کے پارٹی عہدیدارفقیر حسین لالا،ارشد خان عمرزئی، عارف پراچہ،مفتی افتخار،جاوید حسین خان ، تحصیل ناظم تنگی یحیٰی جان مہمنداور امیر امان خان بھی موجود تھے۔