پاکستان کو ایسا ملک بناناچاہیئے کہ والدین اپنے بچوں کوتعلیم حاصل کرنے کیلئے ملک سے باہر نہ بھجیں، مصطفی کمال

سبیکا شیخ کی نماز جنازہ و تدفین میں چئیر مین پی ایس پی، مصطفی کمال ،رکن سندھ اسمبلی ارتضیٰ فاروقی، گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ، دیگر سماجی شخصیات کی شرکت

بدھ مئی 23:44

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) امریکینریاست ٹیکساس کے سانتافی ہائی اسکول میں فائرنگ سے شہید ہونے والی پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ شاہ فیصل کالونی میں واقع عظیم پورہ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ مرحومہ کی نماز جنازہ یونیورسٹی روڈ پر واقع حکیم محمد سعید گراؤنڈ میں ادا کی گئی، مفتی اقبال نے سبیکا کی نماز جنازہ پڑھائی۔

(جاری ہے)

نماز جنازہ و تدفین میں پی ایس پی کے چئیر مین مصطفی کمال پی ایس پی رکن سندھ اسمبلی ارتضیٰ فاروقی، گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ،،، تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ،نجماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان، پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی، راشد ربانی دیگر معروف سماجی شخصیات، پی ایس پی کے کارکنان سمیت مرحومہ کے عزیز و اقارب نے بڑی تعداد میں شرکتِ کی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئیپاک سر زمین پارٹی کے چئیرمن مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ہمیں پاکستان کو ایسا ملک بناناچاہیئے کہ والدین اپنے بچوں کوتعلیم حاصل کرنے کے لیے ملک سے باہر نا بھجیں،،امریکہ میں اس طرح کے واقعات معمول بن گئے ہیں ہمارا ملک اس لحاظ سے بہت بہتر ہے کہ اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات رونما نہیں ہوتے انھوں نے ان خیالات کا اظہار امریکہ کے اسکول میں فائرنگ کے واقعے میں شہید ہونے والی پاکستانی طالبہ سبیکا شہید کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ پاکستان کے لوگ اپنے بچوں کو حفاظت اور بہتر تعلیم کے لیے ملک سے باہر بھیجتے ہیں اور ہمیں پاکستان کو ایسا ملک بنانا چاہیئے کہ والدین کو اپنے بچوں کو باہر بھیجنے کی ضرورت نہ پڑے اور وہ وقت جلد آئے کہ ہم پاکستان میں تعلیمی نظام کو بہتر بنائیں تاکہ دنیا سے لوگ یہاں پڑھنے آئیں انھوں نے کہا کہ امریکہ میں جس طرح کے حالات ہیں اور امریکہ کا میڈیا ایسے واقعات کو بہت کم دیکھاتا ہے اور پھر اگلے واقعے پر چلا جاتا ہیامریکہ میں کرائم ریٹ بہت زیادہ ہے امریکہ میں معمول کی بات ہو گئی ہر دو ماہ بعد کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہو جاتا ہے ہمارا ملک اس حوالے سے بہت بہتر ہے اور کم از کم اس طرح کے واقعات رونما نہیں ہوتے۔