ملک میں عام انتخابات وقت پر ہوں گے،نگراں وزیراعظم کے نام پر فیصلہ آج متوقع ہے، فیصلہ نہیں ہوا تو پھر معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا ، اگر وہاں بھی فیصلہ نہ ہوا تو پھر معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جائے گا جہاں حتمی فیصلہ ہو گا،

پارٹیاں چھوڑنے سے کبھی کسی نے عزت نہیں کمائی، فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے لیے تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا اتفاق بھی ہے دھرنے کے دوران محمد نواز شریف کو جو کچھ کہا گیا وہ انہوں نے قوم کو بتا دیا ہے،ایک ایسا ٹرتھ کمیشن بنا نا چاہئے جس میں تمام معاملات پیش ہوں اور وہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویومیں اظہار خیال

بدھ مئی 23:40

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا بیان کوئی پریس سٹیٹمنٹ نہیں بلکہ عدالت میں دیا گیا ایک ایسا بیان ہے جو آپ کا حق ہوتا ہے، محمد نواز شریف نے بڑے واضح طریقے سے اپنا بیان دے دیا ہے، دھرنے کے دوران انہیں جو کچھ کہا گیا وہ بھی انہوں نے قوم کو بتا دیا ہے، کسی بھی سیاسی شخصیت کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا ، یہ بات پہلے بھی آئی ہے جو قابل قبول بھی نہیں، ہم تو پہلے روز سے ہی کہہ رہے ہیں کہ ملک میں ایک ایسا ٹرتھ کمیشن بنا دیں جس میں یہ تمام معاملات آ جائیں اور ہمیشہ کے لیے حل ہو جائیں، اس کام کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے بہت ضروری ہے تاکہ بعد میں کوئی اعتراض نہ کر سکے لیکن میں اس بات کی یقین دہانی کراتا ہوں کہ اگلی حکومت کسی کی بھی ہو کمیشن کے قیام کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) مکمل حمایت کرے گی۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے کہا کہ محمد نواز شریف کے انٹرویو کا جو تاثر پیدا ہوا وہ ٹھیک نہیں۔ محمد نواز شریف نے کوئی ایسی بات نہیں کی جو ملک مخالف ہو۔ نگراں وزیراعظم کے نام پر فیصلہ آج متوقع ہے، فیصلہ نہیں ہوا تو پھر معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا ، اگر وہاں بھی فیصلہ نہ ہوا تو پھر ساری رپورٹ لگ کر چار نام الیکشن کمیشن کے پاس جائیں گے جہاں پر حتمی فیصلہ ہو گا۔

ملک میں عام انتخابات وقت پر ہوں گے، ہمیں اپنے ماضی سے سبق سیکھنا چاہیئے اور چور دروازوں سے کسی کو راستہ نہیں دینا چاہیئے۔ آئین کہتا ہے کہ ملک میں 60 روز کے اندر انتخابات ہوں ،جو نہیں کرائے گا وہ آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا۔ 31 مئی تک وزیراعظم آفس میں موجود ہوں ،ایک منٹ پہلے بھی مستعفی ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے لیے کوشاں ہیں، پارٹیاں چھوڑنے سے کبھی کسی نے عزت نہیں کمائی، الحمدللہ ہماری جماعت کے پاس ہر حلقے میں مضبوط امیدوار موجود ہیں جو انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں گے اور انشااللہ جیتیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا گزشتہ روز کا بیان کوئی پریس سٹیٹمنٹ نہیں بلکہ عدالت میں دیا گیا ایک ایسا بیان ہے جو آپ کا حق ہوتا ہے اور وہی بیان انہوں نے میڈیا کے سامنے پیش کیا ہے، انہوں نے بڑے واضح طریقے سے اپنا بیان دے دیا ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ دھرنے کے دوران انہیں جو کچھ کہا گیا وہ بھی انہوں نے قوم کو بتا دیا ہے۔

یہ بات کوئی نئی ہی ہے کیونکہ یہ بات پہلے بھی آئی ہے اور قابل قبول بھی نہیں۔ ہم تو پہلے روز ہی سے کہہ رہے ہیں کہ ملک میں ایک ایسا ٹرتھ کمیشن بنا دیں جس میں یہ تمام معاملات آ جائیں اور ہمیشہ کے لیے حل ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ اس حکومت کا یہ آخری ہفتہ ہے اس لیے اگلی حکومت میں تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھیں اور قومی سطح پر مذاکرات ہوں جس میں تمام ادارے بھی شامل ہوں ، اتفاق رائے سے وہ فیصلہ کریں کہ ماضی میں ہم سے اس ملک میں جو غلطیاں ہوئیں ان سب کے حقائق عوام کے سامنے آ جائیں ۔

اس کام کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے بہت ضروری ہے تاکہ بعد میں کوئی اعتراض نہ کر سکے لیکن میں اس بات کی یقین دہانی کراتا ہوں کہ اگلی حکومت کسی کی بھی ہو اس کام کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) مکمل حمایت کرے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دھرنے سے متعلق باتیں پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں اور یہ ایک عام تاثر بھی ہے کہ ہو سکتا ہے عمران خان نے کسی اہم شخصیت سے ملاقات کی ہو لیکن مجھے اس سے کوئی واسطہ نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ تمام حقائق عوام کے سامنے آنے چاہیئں اور اس کے لیے ایک ایسا فورم بننا چاہیئے جسے پارلیمان بنائے اور اس پر اتفاق رائے بھی ہو ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تمام معاملات آئین کے مطابق حل ہونے چاہیئں۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات میں اپنے خدشات ان کے سامنے رکھے جبکہ چیف جسٹس نے بھی کچھ باتیں مجھ سے کیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے انٹرویو کا جو تاثر پیدا ہوا وہ ٹھیک نہیں، محمد نواز شریف نے جو بات کہی اس پر وہ آج بھی قائم ہیں ، محمد نواز شریف نے کوئی ایسی بات نہیں کی جو ملک مخالف ہو لیکن مجھے افسوس ہے کہ ہمارے میڈیا نے بھارتی پراپیگنڈے کو بنا سوچے سمجھے اور بغیر پڑھے یہاں پھیلانا شروع کر دیا اور بھارت سے زیادہ سخت الفاظ میں پھیلانا شروع کر دیا ، یہی چیزیں ملک و قوم کے مفاد مین نہیں ہوتیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے نام پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا لیکن امید ہے کہ آج جمعرات کو حل ہو جائے گا،اگر نہیں ہوا تو پھر معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا، اگر وہاں بھی فیصلہ نہ ہوا تو پھر ساری رپورٹ لگ کر چار نام الیکشن کمیشن کے پاس جائیں گے جہاں پر حتمی فیصلہ ہو گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں عام انتخابات وقت پر ہوں گے کیونکہ انتخابات تاخیر کا شکار ہونا ممکن نہیں کیونکہ ملک اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ماضی سے سبق سیکھنا چاہیئے اور چور دروازوں سے کسی کو راستہ نہیں دینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا آئین کہتا ہے کہ ملک میں 60 روز کے اندر انتخابات ہوں ۔ جو نہیں کرائے گا وہ آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں 31 مئی تک وزیراعظم آفس میں موجود ہوں اور اپنی ذمہ داریاں بخوبی ادا کرتا رہوں گا ، ایک منٹ پہلے بھی مستعفی ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام ہو جائے اور اس کے لیے کوشاں بھی ہیں جس کے لیے ترامیم کی بھی ضرورت ہے، تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا اس پر اتفاق بھی ہے اس لیے امید ہے کہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام ہو جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارٹی چھوڑنے والوں کا احترام کرتا ہوں لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ پارٹیاں چھوڑنے سے کبھی کسی نے عزت نہیں کمائی ۔ الحمدللہ ہماری جماعت کے پاس ہر حلقے میں مضبوط امیدوار موجود ہیں جو انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں گے اور انشااللہ جیتیں گے۔