پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اور اس کی رپورٹ پر تنقید

ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں مریم نواز کا بیان قلمبند ہونا شروع

Fahad Shabbir فہد شبیر جمعرات مئی 10:27

پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اور اس کی رپورٹ پر تنقید
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔24مئی۔2018ء) سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں اپنا بیان آج قلمبند کروانا شروع کر دیا ہے۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں جب کہ ریفرنس میں نامزد تینوں ملزمان کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔  آج مریم نواز بھی تحریری شکل میں لکھا گیا بیان عدالت کو پڑھ کر سنا رہی ہیں۔

مریم نواز کے بعد ریفرنس میں نامزد تیسرے ملزم کیپٹن (ر) محمد صفدر اپنا بیان قلمبند کرائیں گے۔۔مریم نواز نے اپنے بیان کے آغاز پر پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اور اس کی رپورٹ پر تنقید کی اور کہا کہ جے آئی ٹی اور جے آئی ٹی رپورٹ اس کیس میں غیر متعلقہ ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ  2000 میں عامرعزیزبطورڈائریکٹربینکنگ کام کررہےتھے ۔

(جاری ہے)

عامرعزیزکو 2000میں مشرف حکومت نےڈیپوٹیشن پرنیب میں تعینات کیا ۔

  بلال رسول کےرکن جے آئی ٹی بننےتک وہ پی ٹی آئی کی سپورٹرتھے۔ عامرعزیز کو جے آئی ٹی میں شامل کیا گیا۔ عامرعزیز نے مشرف کے دورمیں حدیبیہ پیپرملزکی تحقیقات کیں۔ عامرعزیز 2000 میں میرے اورخاندان کیخلاف دائر ریفرنس میں تفتیشی تھے۔ جےآئی ٹی نےشاید مختلف محکموں سے مخصوص دستاویزات اکٹھی کیں۔ بریگیڈیئرنعمان اور کامران کی جے آئی ٹی میں تعیناتی مناسب نہیں تھی ۔

عرفان منگی کی تعیناتی کا کیس سپریم کورٹ میں ابھی تک زیرالتواہے ۔ عرفان منگی کو بھی جے آئی ٹی میں شامل کردیاگیا۔ اطلاعات کے مطابق بریگیڈیئر نعمان سعید ڈان لیکس انکوائری کمیٹی کاحصہ تھے۔ ڈان لیکس کی وجہ سے سول ملٹری تناؤمیں اضافہ ہوا، ۔جے آئی ٹی میں تعیناتی کے وقت نعمان سعید آئی ایس آئی میں نہیں تھے۔ نعمان سعید کو آؤٹ سورس کیا گیا۔

انکی تنخواہ ریکارڈ سے ظاہر نہیں ہوتی۔ عدالت نے جے آئی ٹی کو اختیارات دیئے کہ قانونی درخواستوں کو نمٹایا جا سکے۔ ایسے اختیارات دینا غیرمناسب اورغیرمتعلقہ تھے۔  جےآئی ٹی کی 10والیم پر مشتمل خودساختہ رپورٹ غیرمتعلقہ تھی۔ جےآئی ٹی کی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں دائر درخواستیں نمٹانے کیلئے تھی۔ ان درخواستوں کوبطور شواہد پیش نہیں کیا جاسکتا۔

جے آئی ٹی تفتیشی رپورٹ ہے جو ناقابل قبول شہادت ہے۔ عدالت نے جے آئی ٹی کے شواہد کی روشنی میں ریفرنس دائر کرنے کا کہا۔ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کو بطور شواہد ریفرنس کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 70سالہ سول ملٹری جھگڑے کا بھی جےآئی ٹی پراثرپڑا۔یاد رہے کہ اس سے قببل نواز شریف نے تین سماعتوں کے دوران عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 128 سوالات کے جواب دیے۔