خفیہ ادارے کے سربراہ کو برطرف کرسکتا تھا لیکن درگزر سے کام لیا، مشاہداللہ اور پرویز رشید سے استعفا لینا بھی بردباری کا نتیجہ ہے۔نوازشریف

سر جھکاکے نوکری نہیں کی تو مشاہداللہ اور پرویز رشید سے استعفا کیوں لیا؟نوازشریف ہرسوال کے جواب میں تحمل اور برباری کا راگ الاپتے رہے

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات مئی 11:29

خفیہ ادارے کے سربراہ کو برطرف کرسکتا تھا لیکن درگزر سے کام لیا، مشاہداللہ ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔24 مئی۔2018ء) سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ پیغام لانے والے ماتحت کو برطرف کرسکتا تھا لیکن ملکی مفاد میں نہیں کیا، درگزر سے کام لیا، مشاہداللہ اور پرویز رشید سے استعفا لینا بھی بردباری کا نتیجہ ہے۔ چاہتے ہیں ملک میں حقیقی جمہوریت ہو توسب کھڑے ہوں، اب کھڑے ہوں گے تو یہ ممکن ہو جائے گا۔

احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ کل مکمل تقریر ٹی وی پرچلنے پرخود بڑا حیران ہوں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ سب کو حق کے لیے کھڑا ہونا ہو گا، چاہتے ہیں ملک میں حقیقی جمہوریت ہو توسب کھڑے ہوں، اب کھڑے ہوں گے تو یہ ممکن ہو جائے گا۔۔نوازشریف نے کہا کہ دھرنوں کے وقت تحمل اور صبر سے کام لیا، ماتحت کو فارغ کرسکتا تھا، ملک کی خاطرتحمل سے کام لیا۔

(جاری ہے)

نوازشریف نے کہا کہ عدالت میں بتانا تھا توبتا دیا ہے، حقائق منظرعام پر آنے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ہرچیزکا وقت ہوتاہے، سچ ریکارڈ پرلانے کے لیے کل بتایا۔ سابق وزیراعظم نے گزشتہ روز عدالت میں اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے عدالت کو بتانا تھا کہ ایک خفیہ ادارے کے افسر کا پیغام پہنچایا گیا کہ مستعفی ہوجاﺅ یا طویل رخصت پر چلے جاﺅ، مجھے اس کا دکھ ہوا کہ ماتحت ادارے کا ملازم مجھ تک یہ پیغام پہنچا رہا ہے۔

جب صحافی نے نوازشریف سے سوال کیا کہ،ماتحت ادارے کے جس سربراہ نے آپ کو پیغام پہنچایا اس کو برطرف کیوں نہیں کیا؟نواز شریف نے جواب دیا کہ میں نے تحمل ،درگزر،بردباری اور ہمت کا مظاہرہ کیا،میں اس ادارے کے سربراہ کو برطرف کرسکتا تھا، ملکی مفاد میں برطرف نہیں کیا، درگزرسے کام لیا۔حقائق منظر عام پر آنا چاہیے تھے، ان مسائل نے 70سال سے ہماری جان نہیں چھوڑی۔

صحافی نے سوال کیا کہ اگر سر جھکاکے نوکری نہیں کی تو مشاہداللہ اور پرویز رشید سے استعفا کیوں لیا؟نوا زشریف نے جواب دیا کہ مشاہداللہ اور پرویز رشید سے استعفا لینا بھی اس بردباری اور درگزر کا نتیجہ ہے۔ قبل ازیں نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پرعدالت سے سانپ نکل آیا، پولیس اہلکاروں نے سانپ کو مار دیا۔اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف آج احتساب عدالت میں پیش ہوئے جہاں پر ان کیخلاف دائر مختلف ریفرنسز کی سماعت ہوئی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف ابھی کمرہ عدالت سے روانگی کے باہر نکلے تھے کہ کمرہ عدالت سے 5فٹ لمباسانپ نکل آیا۔سانپ کو دیکھ کروہاں موجود لوگ خوفزدہ ہوگئے۔تاہم وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے سانپ کو فوری مار دیا۔