ایران ایٹمی معاہدے سے پہلے والی صورت حال پر واپسی کے لیے تیارہے،ڈاکٹر علی اکبر صالحی

جمعرات مئی 12:11

․ تہران۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) ایران کے ایٹمی توانائی کے قومی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحینے کہا ہے کہ ملک کی ایٹمی صنعتیں پوری طرح کام کر رہی ہیں اور ہم ایٹمی معاہدے سے پہلے والی پوزیشن پر واپسی کے لیے مکمل تیار ہیں۔ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پارلیمانی کمیشن برائے ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر علی اکبر صالحی نے ملک کی ایٹمی صنعتوں کی موجودہ صورت حال کو اطمینان بخش قرار دیا۔

(جاری ہے)

انکا کہنا تھا کہ ملک کی ایٹمی صنعتیں اپنی گنجائش کے مطابق کام کر رہی ہیں اور ضرورت پڑنے پر ہم ایٹمی معاہدے سے پہلے والی پوزیشن پر واپسی کی تیاری بھی مکمل کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری ایٹمی صنعتیں پہلے سے زیادہ تیزی کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور ایران نے ایٹمی معاہدے کے بعد روس کے تعاون سے سٹیبل آئسوٹوپ کی تیاری کا عمل بھی شروع کر دیا ہے جبکہ ایٹمی معاہدے سے پہلے ہم صرف یورینئم ہی افزودہ کر رہے تھے۔علی اکبر صالحی نے کہا کہ ایرانی قوم گزشتہ چالیس سالوں سے مزاحمت کرتی آ رہی ہے،جس کی بدولت آج وطن عزیز کو بڑی کامیابیاں ملی ہیں اور آئندہ بھی ایران کو درپیش مشکلات اور رکاوٹوں کا یکے بعد دیگری خاتمہ کر دیں گے۔