جاپان ، وزارتِ خزانہ نے زمین کے لین دین کا ریکارڈ پیش کردیا

جمعرات مئی 12:14

ٹوکیو۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) جاپان کی وزارتِ خزانہ نے ایوانِ زیریں کی بجٹ کمیٹی کو سرکاری زمین کی متنازع فروخت کا وہ ریکارڈ پیش کر دیا ہے جس سے متعلق پہلے کہاگیا تھا کہ اسے ضائع کر دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

جاپان کے نشریاتی ادارے کے مطابق وزارت خزانہ نے گزشتہ روز ایوانِ زیریں کی بجٹ کمیٹی کو 900 سے زائد صفحات پر مشتملسرکاری زمین کی متنازع فروخت کا وہ ریکارڈ پیش کر دیا ہے جو سکول کے منتظم ادارے موری تومو گاکٴْوئن کو اوساکا میں انتہائی رعایتی داموں پر فروخت کرنے کے لئے ہونے والی تفصیلی بات چیت کا ریکارڈ ہیں۔

وزارت کا کہنا ہے کہ یہ ریکارڈ 2013ء اور 2016ء کے درمیان بھی جمع کروائے گئے تھے ۔اِس ریکارڈ میں وزارتِ خزانہ کی موری تومو گاکٴْوئن اور وزیرِاعظم شِنزو آبے کی اہلیہ آکیے کے اٴْس وقت کے معاون سے بات چیت شامل ہے۔ واضح رہے کہ متنازع زمین پر جس سکول کی تعمیر ہونی تھی وزیرا عظم شنزوآبے کی اہلیہ کو اٴْس کا اعزازی سربراہ مقرر کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے حکومت پر ترجیحی برتاؤ کے الزامات لگائے گئیہیں۔

متعلقہ عنوان :