شامی صدرکی زندگی پر نئی کتاب کی’’بشارالاسدنے یوں کہا‘‘کی اشاعت

کتاب میں ایک باب میں بشارالاسد اور ان کے خاندان کی نجی اور سماجی زندگی پر بھی باندھا گیا ہے،رپورٹ

جمعرات مئی 13:49

دمشق(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) شام کے صدر بشارالاسد کی زندگی اور ان کے بیانات پر مشتمل ایک نئی کتاب منظر عام پرآئی ہے۔ انگریزی زبان میں مرتب اس کتاب کے مصنف کی شناخت نہیں کی گئی تاہم اس کا مقدمہ وزیر دفاع علی ایوب نے لکھا ہے۔ کتاب کے مقدمے سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ کتاب علی ایوب ہی نے مرتب کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کتاب کو ’’بشارالاسد نے یوں کہا‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔

کتاب میں بشارالاسد کی زندگی اور ان کے بعض بیانات اور ملک میں جاری سیاسی حالات کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ کتاب میں ایک باب قضیہ فلسطین کے حوالے سے مختص ہے جس میں بشارلاسد نے فلسطینی تنظیموں کو عملی قرار دیا ہے۔اس کے علاوہ ایک باب میں بشارالاسد اور ان کے خاندان کی نجی اور سماجی زندگی پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

(جاری ہے)

بشارالاسد کا مقام ومرتبہ بڑھانے کے لیے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کام کرنے والے اداروں اور تنظیموں کی طرف سے انہیں دی گئی اعزازی ڈگریوں اور دیگر اعزازات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

مذکورہ کتاب اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے جسے شامی فوج کے زیر انتظام عربی سے انگریزی میں ترجمہ کیا گیا۔ کتاب میں شامل بشارالاسد کے بیانات 2015ء سے 2018ء کے درمیانے عرصے کے ہیں۔ یہ وہ عرصہ ہے جس میں روس نے شام میں بشارالاسد کو بچانے کے لیے بھرپور فوجی مداخلت کی۔ کتاب کے ترجمے کہ ذمہ داری اسدی فوج کے کرنل ایمن جمال الدین الضحاک، سفارت کار جھان توفیق ابراہیم، مترجم ایمن توفیق کو سونپی گئی۔

بعض بیانات میں بشارالاسد نے خود کو ایک مصلح کے طورپر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ انسان کی اہمیت پر بھی بات کرتے ہیں اور تعمیر نو کی طرف بھی توجہ دیتے ہیں۔بشارالاسد کی زندگی پر مشتمل کتاب میں ایران اور روس کی مدح سرائی کے ساتھ شام میں لڑنے والی لبنانی حزب اللہ ملیشیا کی بھی تحسین کی گئی ہے۔ وہ تسلم کرتے ہیں کہ ایران اور روس نے اسد رجیم کو تحفظ دینے کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ وہ ایران کے جوہری پروگرام کی بھی کھل کر حمایت کرتے ہیں اور حسب توفیق ایران کے مخالفین کو بھی کھری کھری سنانے کی کوشش کرتے ہیں۔