چین کی متنازعہ علاقہ میں کان کنی مہم بھارت تک پہنچنے کا واویلا

ْبھارتی میڈیاکاواویلا بے بنیاد،جس علاقے کی بات ہورہی ہے وہ ہماراعلاقہ ہے،چینی وزارت خارجہ

جمعرات مئی 14:02

نئی دہلی /بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) چین کے سرکاری میڈیا نے اس رپورٹ کو مسترد کیا ہے، جس کے مطابق چین کی کان کنی کی مہم بھارت کے ساتھ اس کے متنازع علاقے تک پہنچنے والی ہے اور ہمالیہ دوسرا ساؤتھ چائنا سی یا جنوبی بحیرہ چین بن سکتا ہے۔ اس سے قبل ایک رپورٹ کہا گیا تھا کہ چین ہیونزے میں بڑے پیمانے پر کھدائی کر رہا ہے جہاں قیمتی معدنیات مل رہی ہیں۔

چینی میڈیا نے کہاکہ بھارتی میڈیا کی رپورٹ دونوں ممالک کے درمیان حساس معاملات کو بھڑکانے کا کام کرتی ہے۔ادھر چینی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اس نے بھارتی رپورٹ کا نوٹس لیا ہے۔ بہرحال خارجہ وزارت نے یہ بھی کہا کہ رپورٹ میں جس علاقے کا ذکر کیا گیا ہے وہ مکمل طور پر چینی علاقہ ہے۔وزارت نے کہا ہے کہ چین اپنے علاقے میں باقاعدگی سے تحقیقاتی کام کرتا ہے۔

(جاری ہے)

یہ ہماری خود مختاری کے تحت آتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ میڈیا ان معاملوں کو سنسنی خیز بنا کر پیش نہیں کرے گی،،بھارتی میڈیا نے واویلا کیا تھا کہ ہمالیہ میں چین کی کان کنی سے انڈیا اور چین کے درمیان نئی فوجی کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔رپورٹ میں کہ وہاں گہری سرنگیں کھودی جا رہی ہیں۔ بجلی فراہم کر دی گئی ہے اور ایک ایئر پورٹ کی تعمیر بھی جاری ہے۔

رپورٹ میں بیجنگ میں قائم چائنا یونیورسٹی آف جیو سائنسز کے ایک پروفیسر کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔اس سے علاقے میں چینی آبادی کو استحکام حاصل ہو گا اور انڈین علاقے میں کسی بھی قسم کی فوجی مہم کو انجام دینے میں مدد ملے گی۔ انھوں نے کہا کہ 'یہ ساؤتھ چائنا سی کی ہی طرح ہے۔رپورٹ میں چین کے شہر ووہان میں قائم چائنیز اکیڈمی آف سائنس کے ریسرچر کا حوالہ بھی ہے جن کا کہنا چین نے جو کام ساؤتھ چائنا سی میں کیا ہے وہی کام یہ ہمالیہ کے علاقے میں کرنا چاہتا ہے۔

متعلقہ عنوان :