حکومت نے میگا ترقیاتی بجٹ پیش کر کے ثابت کیا ہے آزاد خطہ کی تعمیر وترقی اس کی اولین ترجیح ہے‘پیر علی رضا بخاری

مسلم لیگ ن تحریک آزادی کشمیر اور علاقہ کی تعمیر ترقی پر بھرپوریقین رکھتی ہے جس کا عکس اس بجٹ میں موجود ہے

جمعرات مئی 14:21

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) ممبر آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی پیر علی رضا بخاری نے کہا ہے کہ حکومت نے میگا ترقیاتی بجٹ پیش کر کے ثابت کیا ہے کہ آزاد خطہ کی تعمیر وترقی اس کی اولین ترجیح ہے ، مسلم لیگ ن تحریک آزادی کشمیر اور علاقہ کی تعمیر ترقی پر بھرپوریقین رکھتی ہے جس کا عکس اس بجٹ میں موجود ہے جمعرات کے روز بجٹ پر بحث میں میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر نے ریاستی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی پیش کر کے آزاد خطہ کے اندر تعمیر وترقی کی نئی تاریخ رقم کرنے کی بنیاد رکھی ہے جس پر میں آزاد کشمیر کی عوام اور حکومت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ساتھ ہی جناب قائد پاکستان مسلم لیگ محمد نواز شریف،، وزیر اعظم پاکستان جناب شاہد خاقان عباسی ، وفاقی وزیر امور کشمیر وجی بی چوہدری برجیس طاہر ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال کا خاص طو ر پر شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے نہ صر ف آزاد کشمیر کی مالیاتی ضروریات کو سمجھا بلکہ ان کو پورا کرنے کے لئے بھرپور فنڈز بھی مہیا کیے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ آزاد حکومت کے ترقیاتی بجٹ10فیصد سے جہاں بجٹ کے حجم کو بڑھانے کا آئینہ دار ہے وہیں یہ وفاقی اداروں کا آزاد حکومت اور یہاں کے اداروں پر اعتماد کا اظہار بھی ہے کہ ریاستی ادارے ، اتنابڑاترقیاتی بجٹ جس کی تاریخ میں مثال نہ ملتی ہو خرچ کرنے کی بھی اہل ہیں ۔ اور انہوں نے یہ کام کر بھی دکھایا 2017-18کے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کے وقت پاکستان کی بیوروکریسی دیے جانے والے ترقیاتی بجٹ کا مقررہ وقت کے اندر خرچ کرنے کی شرائط عائد کرتے دکھائی دیتی تھی مگر ایک سال گزرنے کے بعد صورتحال یہ ہے کہ اسی بیوروکریسی کو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ہدایت پر آزاد کشمیر کے ترقیاتی بجٹ میں مزید 2.3ارب روپے اضافہ بھی کرنا پڑا ۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں کی طرز پر این ایف سی سے آزا دکشمیر کے لئے وفاقی محصولات سے مختص کرانا مسلم لیگ ن کی ایک اور بہت بڑی کامیابی ہے جس کے تحت آزاد کشمیر کے لئے وفاقی محصولات سے 3.64فیصد حصے کا تعین کردیا گیا ہے اور آزاد کشمیر کے لئے کم از کم حصہ ، 49ارب ہوگا اگر 3.64فیصد فارمولے کے تحت آزاد کشمیر کا حصہ کم ہو۔ انہوں نے کہا کہیہ موجودہ حکومت کا ایسا کارنامہ ہے جس پر آزاد کشمیر کے عوام اور حکومت زبردست خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔

وزیر اعظم راجہ محمد فاروق نے آزاد کشمیر کی مالی کسمپرسی ختم کر دی ہے ۔ ترقی کے پہیے کو چلادیا ہے اب یہ رکے گا نہیں بلکہ مزید رفتار پکڑے گا۔ اور آزاد خطہ کے اندر ترقی لوگوں کی زندگیاں تبدیل کر دے گی اور اس ترقی کا سب سے بڑا فائدہ معاشرے سے غربت ، انتہا پسندی اور منفی رجحانات کا خاتمہ ہوگا اور مقبوضہ کشمیر کے عوام آزاد کشمیر کی مثالی ترقی کا مثال دیا کریں گے جس سے تحریک الحاق پاکستان حقیقی معنوں میں مستحکم ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنی تقریر میں بجٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کی طرف نہیں جانا بلکہ یہ بات ایوان کے ساتھ رکھتا ہوں کہ الیکشن سے قبل اپنے انتخابی منشور میں مسلمم لیگ ن نے صرف وعدے اور دعوے تو ہی نہیں کئے تھے انتخابی مہم کے دوران وفاقی وزراء نے جس طرح آزاد کشمیر کے چپے چپے کا دورہ کیا اور عوام سے وعدے اور اعلانات کئے تو ان وعدوں اور اعلانات پر حقیقت میں عمل کر کے مسلم لیگ ن کی حکومت ہی نے دکھایا ہے ۔

ورنہ آزاد کشمیر کے عوام سابق ادوار کے ہوئی اعلانات ابھی تک نہیں بھولے ۔ انہوں نے کہا کہ واٹر یوز چارجز میں اضافہ آزاد کشمیر کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے نرخوں میں اضافہ کرانا بھی ہماری حکومت کا سنہری کارنامہ ہے یہ چارجز اب 15پیسے سے بڑھ کر 110پیسے فی یونٹ ہو چکے ہیں جس سے آزاد کشمیر کو سالانہ 25ارب روپے کی آمدن ہوگی اور یہ رقم یقیناآزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی پر خرچ ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں وکشمیر کونسل سے آزاد حکومت کو اختیارات کی منتقلی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ حقیقت بن چکی ہے ۔ کونسل کے انتظامی و مالیاتی اختیارات آزاد کشمیر حکومت کو منتقل ہونے سے یہاں کی حکومت مزید بااختیار ہوگی ، کونسل کرپشن کے دروازے بند ہوں گے اور کشمیر کونسل کے بجٹ سے مزید 20فیصد آزا دحکومت کو ملیں گے ۔ ججز صاحبان کی تقرری سے لیکر ریاستی معیشت کو مزید مضبوط بنانے کے لئے اہم اور فوری فیصلوں کے لئے انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

پیر علی رضا بخاری نے کہا کہ ہمارے شمالی خطے میں سیاحت کا فروغ بہت آسان ہے سیاح خود مل کر یہاں آتے ہیں سڑکوں کی کنڈیشن بھی بہت اچھی ہے اور مستقبل میں اس کے اندر مزید تنوع لانے کی گنجائش بھی موجود ہے جبکہ موسم سرما جب ہمارے شمالی حصہ موسم کی شدت ، لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ’’بلاک ‘‘ ہو جاتا ہے تو پھر ان سیاحوں کو جنوبی حصے میر پور ، بھمبر اورکوٹلی کے علاقوں کی طرف متوجہ کرنا بہتر آسان ہے ۔

منگلا جھیل ، منگلا قلعہ ، بھمبر میں باکسر قلعہ ، دربار شادی شہید ، کوٹلی میں تھروچی ، پیر کلینجر اور بعرنڈ قلعہ کے اتھ تتہ پانی ایسے مقامات ہیں جن کو ترقی دیکر اور سیاحوں کے لئے مزید سہولیات پیدا کر کے ان علاقوں میں معیشت کو بھی مضبوط بنایا جا سکتا ہے ۔ اس لئے میر ی تجویز ہے کہ میر پور ، کوٹلی ،ہجیرہ ، عباسپور ، لسڈنہ ، باغ ، چکار ، مظفرآباد کو کشادہ اور پختہ کرنے کا منصوبہ بنایا جائے تاکہ آزاد کشمیر پورے کی حیثیت ٹورازم کوریڈور کی ہواور لاہور کی طرف سے آنے والے سیاح پورے آزا دکشمیر کا نظارہ کرتے ہوئے مظفرآباد سے مانسہرہ موٹر وے سے واپس پاکستان جا سکیں ۔

انہوں نے کہا کہ سیاحت کے حوالے سے میری دوسری تجویز ہے کہ آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کے لئے مذہبی سیاحت پر توجہ دی جائے جس کے لئے در بار شادی شہید ، گلہار شریف کوٹلی سمیت تمام مضافات پر سیاحوں کی توجہ کے لئے قدرتی سیاحتی مقامات کو بھی ترقی دی جائے ۔ سیاحوں کے کے لیے روایتی کے بجائے مقامی ثقافتی خوراج کا اہتمام کیا جائے بالخصوص کوٹلی میں عرس کی تقریبات سردیوں میں ہوتی ہیں اور یہاں پر دریائے پونچھ میں مہا شیر مچھلی دستیاب ہے اس طرح دیکر دیسی کھانوں کو پیش کیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملی سیاحوں کے لئے آزا دکشمیر میں داخلے کو آزادانہ بنایا جائے ۔ ہر وہ شخص جو پاکستان کا ویزہ رکھتا ہو اس کو این او سی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے ۔ غیر ملکی سیاحوں کے لئے رہائشی ، سیکیورٹی اور نقل و حرکت کی خصوصی سہولیات پر توجہ دی جائے ۔انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ کے متاثرین کی بحالی کے لئے 13کروڑ کا منصوبہ موجودہ حکومت کا اہم کارنامہ ہے ۔

اس منصوبہ پر عملدرآمد سے متاثرین کی مشکلات کم ہوں گی اور انہیں بھی زندگی کی بنیادی سہولیات تک رسائی ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کی بہادر مسلح افواج کو آپریشن ردالفساد کی کامیابی پر مبارکباد دیتا ہوں اور ساتھ ہی کنٹرول لائن پر دشمن کو جارحیت پر منہ توڑ جوا ب دے کر خطہ کی حفاظت کو یقینی بنانے پر اپنی بہادر فوج کے سپہ سالار کو مبارکباد اور شکریہ ادا کرتاہوں ۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ٹریفک حادثات کے نتیجہ میں انسانی اموات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس میں سڑکوں کی غیر تسلی بخش حالت اور گاڑیوں کا بغیر چیک آپ فٹنس سرٹیفکیٹس کا اجراء ہے ان وجوہات پر قابو پانے کے لئے حکومت نے شعبہ ٹرانسپورٹ کو مستحکم بنانے کے لئے دو ترقیاتی منصوبے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں ان منصوبوں پر عملد ر آمد سے یقینا حادثات میں کمی آئے گی ۔

اس وقت 2کروڑ کا منصوبہ چل رہا ہے جبکہ آئندہ مالی سال کیلئے مزید 2کروڑ روپے مختص کئے جارہے ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو مستحکم کرنے کے لئے 4کروڑ کا دوسرا منصوبہ بھی شروع کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ این ٹی ایس کے ذریعہ محکمہ تعلیم میں بھرتیوں سے میرٹ کا بول بالا ہوا ہے اور اہل اساتذہ کرام ہمارے تعلیمی نظام کا حصہ بنے ہیں ۔ حکومت کے اس اقدام سے شعبہ تعلیم اب روز بروز بہتری کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے لئے جناب وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان مبارکباد کے مستحق ہیں لیکن اس کے ساتھ میں یہ گزارش بھی کروں گا کہ محکمہ تعلیم کے ساتھ ساتھھ دیکر تمام محکموں میں بھی بھرتیوں کو این ٹی ایس سے منسلک کرایا جائے اور ضلعی کوٹہ پر بھی عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ۔