آزاد کشمیر ٹریفک پولیس نے رکشہ چلانے والوں کی کھال اتارنا شروع کر دی‘کوئی پوچھنے والا نہیں

ٹریفک پولیس کے آئے روز تنگ کرنے بعد لوہار گلی کے شہری اپنی آواز آئی جی آزادکشمیر تک پہنچانے کے لئے میڈیا کے پاس پہنچ گئے

جمعرات مئی 14:21

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) آئی جی آزاد کشمیر ایک نظر مزدورڈرائیورز طبقہ پر بھی ہو، دن بھر مزدوری کے کی غرض سے اوربھاری رقوم قرضہ جات لے کرگاڑی ،رکشتہ خریدکر گھر کا چولہا جلانے والوں کی ٹریفک پولیس نے کھال اتارنا شروع کر دی ، ٹریفک پولیس کے آئے روز تنگ کرنے بعد لوہار گلی کے شہری اپنی آواز آئی جی آزادکشمیر تک پہنچانے کے لئے میڈیا کے پاس پہنچ گئے ، ٹریفک پولیس اہلکار مظفرآباد کے شہریوں کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں ، کاغذات مکمل ہونے کے باوجود بھی کسی نہ کوئی بھی بہانہ بنا کر یاڈرا دھمکا کر عیدی وصول کرنے لگے ، لوہار گلی کے سائیں اختر، چوہدری اللہ دتہ ، میاں رفیق ، جبار احمد و دیگر نے میڈیا کو بتایا کہ ٹریفک اہلکار چوروں کی طرح ایسی جگہوں کا انتخاب کرتے ہیں جہاں سے وہ کھلے عام عوام کو لوٹ سکیں ، دوسرا یہ کہ بیلہ نور شاہ ون وے پر جب بیریل ہوتا ہے تو ڈرائیورز کو سامنے نظر آ رہا ہوتا ہے کہ ون وے ہے جب وہاں پر کوئی ون وے کا بورڈ یا بیرل موجود نہ ہوگا تو کسی کو کیا پتا چلے گا کہ روڈ ون وے ہے ،بس جدھر دیکھا کہ گاڑی آ جارہی ہے تو بس وہیں چالان کاٹ کر ہاتھ میں دے دیا جاتا ہے ، بات کی جائے تو کہتے ہیں کہ آپ لوگ بدتمیزی کرتے ہو، سائیں اخترنے بتایا کہ وہ صبح اپنی سوزوکی جو انہوں نے اپنے ذاتی استعمال کے لئے رکھی ہوئی ہے اور سکول کے بچوں کو چھوڑنے آرہا تھا بیلہ نور شاہ کے مقام پر ون وے کا کوئی بورڈ اور کوئی بیریل موجود نہ تھاتو وہ شارٹ رستے سے نیلم پل پہنچے جہاں کھڑے تین ٹریفک پولیس اہلکاران نے گاڑی روکتے ہوئے کہا آپ کو پتہ نہیں کہ ون وے ہے تو میں نے بولا کہ جب ون وے ہوتا ہے تو ہم نہیں آتے جب وہاں پر کوئی ون وے کی نشانی ہی نہ ہو تو ہم کدھر سے جائیں ،،ٹریفک پولیس صرف بہانے تلاش کرتے ہوئے شہریوں کو لوٹنے میں مصروف ہے ، شہریوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس میں تعینات تمام حملہ بدتمیز اور رشوت خور ہے ہم آئی جی آزاد کشمیر ، ایس ایس پی مظفرآباد سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے بدتمیز جو کہ وردی کے نام پر دھبہ ہیں اوراور باہر سے آنے والے مہمانوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک اور رشوت کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں کہ خلاف کاروائی کرتے ہوئے پولیس نفری سے پڑھے لکھے اور عوام دوست ٹریفک پولیس اہلکاران تعینات کئے جائیںبصورت دیگرہم محکمہ پولیس اور ٹریفک پولیس کے خلاف تحریک چلاتے ہوئے احتجاجی کیمپ قائم کریں گے ۔