7 اور 9 جون کے درمیان کیا ہونے والا ہے؟

معروف صحافی نے شریف خاندان سے متعلق بری خبر دے دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات مئی 13:44

7 اور 9 جون کے درمیان کیا ہونے والا ہے؟
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 مئی 2018ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی محمد مالک نے کہا کہ ایک سیاسی تجزیہ کار نے ایک بہت اچھا نظریہ پیش کیا تھا اور وہ نظریہ تھا What aboutism کا ، اس کے تحت جب بھی کسی سے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو وہ اس کا جواب دینے کی بجائے دوسروں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔یہی کام نواز شرہف بھی کر رہے ہیں اور موجودہ صورتحال میں یہی چل رہا ہے۔

میاں نواز شریف کوئی اصل جواب نہیں دینا چاہتے۔ اور یہ تھیوری اپنا کر بات کو ختم کرنے یا اس بات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بات کچھ بھی نہیں ہے ۔ اصل بات تو یہ ہے کہ جون کا پہلا ہفتہ قریب آ رہا ہے اور احتساب عدالت کو دی جانے والی ڈیڈ لائن ختم ہو رہی ہے ۔

(جاری ہے)

سب کو میاں صاحب اور ان کے خاندان کے خلاف تین ریفرنسز کا فیصلہ آنے کا انتظار ہے لیکن کچھ ماہرین قانون کا ماننا ہےکہ اگر تینوں ریفرنسز پر نہیں تو کم از کم ایک ریفرنس کا فیصلہ تو آ ہی جائے گا اور وہ ایون فیلڈ ریفنس ہو گا۔

محمد مالک نے کہا کہ کسی ایک ریفرنس کا فیصلہ جون کے پہلے ہفتے میں سات اور نو جون کے درمیان ہوتا نظر آ رہا ہے۔اور وہ فیصلہ کیا ہو گا ہم اس کی پیشن گوئی تو نہیں کر سکتے لیکن جو سپریم کورٹ میں ہوا ، جو نیٹ کورٹ میں ہوا،اس کو دیکھ کر یہ لگتاہے کہ کوئی معجزہ ہی ہو گا اگر نواز شریف کو سزا نہ ہوئی، میاں صاحب نے ممبئی حملوں سے متعلق بات کی تھی اس پر بھی کچھ نہیں ہوا اب آخری بات انہوں نے خفیہ ایجنسی کے سربراہ کے خلاف کر دی ہے۔

ان کا کہنا ہےکہ مستعفی ہونے کے لیے مجھے خفیہ ایجنسی سے پیغام موصول ہوا۔ اس وقت خفیہ ایجنسی کا سربراہ کون تھا سب کو علم ہے تو پھر نواز شریف کھُل کر بات کیوں نہیں کر رہے؟ کیا راحیل شریف نے ان کو پیغام بھجوایا تھا ؟ اگر ہاں تو سعودی عرب ساتھ ہی ہے ،ان کو بُلوا کر پوچھا جا سکتا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ میاں صاحب سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے۔