جمہوریت کی کمزوری میں عمران خان کی جماعت کا اہم کردار ہے،

سیاست میں اختلاف رائے ہوتا ہے نفرت نہیں، جو نفرت کے بیج تحریک انصاف نے بوئے ہیں ان کے مظاہر ٹی وی شوز میں تھپڑوں ‘ لوگوں پر سیاہی اور جوتے پھینکنے کی صورت میں سامنے آرہے ہیں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا قومی اسمبلی میں نقطہ اعتراض پر اظہار خیال

جمعرات مئی 14:21

جمہوریت کی کمزوری میں عمران خان کی جماعت کا اہم کردار ہے،
اسلام آباد۔ 24 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کی کمزوری میں عمران خان کی جماعت کا اہم کردار ہے‘ جمہوریت میں جتنی جان تھی اتنی دیر پرویز مشرف کو روکا گیا‘ سیاست میں اختلاف رائے ہوتا ہے لیکن نفرت نہیں ہوتی‘ جو نفرت کے بیج بوئے گئے ہیں ان کے مظاہر سامنے آرہے ہیں۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں شاہ محمود قریشی کی تقریر کے بعد نکتہ اعتراض پر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اسمبلی کے فلور پر ہر رکن کو اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کا حق ہوتا ہے۔

یہاں پر پرویز مشرف کی ملک سے واپسی کی بات کی گئی ہے‘ سب کو اچھی طرح سے معلوم ہے وفاقی حکومت عدالت میں گئی تھی اور عدالتی حکم کے بعد ای سی ایل سے ان کا نام ہٹایا گیا اور انہیں باہر جانے دیا گیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں جتنی جان تھی اتنی دیر تک پرویز مشرف کو روکا گیا تھا۔ جمہوریت کی کمزوری میں عمران خان کی جماعت کا کردار تھا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہاں پر امپائر امپائر کی آوازیں کون نکالتا تھا۔

اس پارلیمنٹ کو جعلی پارلیمنٹ کہا گیا اور بغیر کسی الزام کے سیاسی رہنمائوں کو چور پکارا گیا۔ پارلیمان کی تمام سیاسی جماعتوں کے لئے مغلظات کا استعمال کیا گیا‘ پارلیمان کا جنگلا توڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی پر حملے کے بعد عمران خان نے باآواز بلند طاہر القادری کو مبارکباد دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جو نفرت کے بیج تحریک انصاف نے بوئے ہیں ان کے مظاہر ٹی وی شوز میں تھپڑوں ‘ لوگوں پر سیاہی اور جوتے پھینکنے کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔

ہم ایک ایسی صورتحال کی طرف جارہے ہیں جہاں نفرت بڑھ رہی ہے۔ سیاست میں اختلاف ہوتا ہے نفرت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ چار حلقوں کو کھولنے کی بات کی گئی ہے‘ اس راستے سے کون واپس ہوا ہے وہ سب کو یاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تحریک انصاف کے اراکین نے استعفے دیئے تو مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے استعفوں سے گرد جھاڑ کر انہیں واپس ایوان میں لانے میں کردار ادا کیا ۔

اس ایوان کی جماعتوں نے ان کے مینڈیٹ کا احترام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو اپنے الفاظ یاد رکھنے چاہئیں۔ یہاں جہانگیر ترین کی نااہلی کی بات ہوئی تو میں نے اس کی مخالفت کی تھی اور یہ کہا تھا کہ پچھلے دروازوں سے لوگوں کو نکالنے کی پالیسی درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی غلطیاں اور خرابیاں دوسروں پر ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے۔