نوازشریف کے بیان پر قومی اسمبلی میں شاہ محمود قریشی اور سعد رفیق میں لفظی تکرار

پرویز مشرف ملک سے باہر تو نواز شریف کی مرضی سے گئے، شاہ محمود قریشی ایجنسی کے سربراہ نے استعفیٰ دینے کو کہاتو آرمی چیف کو اعتماد میں لیکر ڈی جی آئی ایس آئی کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی ،ْ اسمبلی میں خطاب جتنی جمہوریت میں جان تھی تب تک ہم نے پرویز مشرف کو روکے رکھا، ہم کسی کی نااہلی کے حامی نہیں ہیں ،ْوزیر ریلوے سعد رفیق کا جواب

جمعرات مئی 15:14

نوازشریف کے بیان پر قومی اسمبلی میں شاہ محمود قریشی اور سعد رفیق میں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے 2014 دھرنوں سے متعلق بیان پر قومی اسمبلی میں شاہ محمود قریشی اور وزیر ریلوے سعد رفیق کے درمیان لفظی تکرار ہوئی۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے پریس کانفرنس میں اہم نکات اٹھائے، نواز شریف نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمہ کی وجہ سے انہیں نکالا گیا لیکن پرویز مشرف ملک سے باہر تو نواز شریف کی مرضی سے گئے، انھیں ایجنسی کے سربراہ نے استعفیٰ دینے کو کہا، اگر ایسا ہوا تو آرمی چیف کو اعتماد میں لے کر ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی ، نواز شریف نے کہا کہ دھرنا کسی اور کے اشارے پر ہوا ہے، ہم ایک سال تک کہتے رہے کہ 4 حلقے کھول دیں، اگر چار حلقے کھل جاتے تو دھرنے کی نوبت ہی نہ آتی، اگر نواز شریف کا موقف درست ہے تو آج تک خاموش کیوں رہے، نواز شریف نہ منی ٹریل دے سکے نہ عدالت کے سوالات کا جواب دے سکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جب ہم اسلام آباد کی طرف آرہے تھے تو ہم نے طاہر القادری سے ملاقات میں واضح طور پر کہا تھا کہ ہم اپنا پرامن احتجاج کریں گے اور ماورائے آئین اقدام سے گریز کریں گے۔ دھرنوں کے دوران میں اس پارلیمان میں بھی آیا تھا اور یہاں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ یہ اسمبلی ہمارا سیاسی کعبہ ہے اور اس پر حملہ نہیں کر سکتے۔پی ٹی آئی رہنما کی بات پر وزیر ریلوے سعد رفیق نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے جس طرح سے اپنی جماعت کو نکالنے کی کوشش کی، میرا فرض ہے کہ اس کا جواب دوں، جتنی جمہوریت میں جان تھی تب تک ہم نے پرویز مشرف کو روکے رکھا، ہم کسی کی نااہلی کے حامی نہیں ہیں۔

ہم نے سب کی نااہلی کی مخالفت کی، یوسف رضا گیلانی ہو، نواز شریف یا جہانگیر ترین،، ہم سیاستدانوں کی نااہلی پر خوش نہیں ہوتے۔۔سعد رفیق نے کہا کہ جمہوریت کی کمزوری میں عمران خان کی جماعت کا کردار تھا، اس پارلیمنٹ کو گالیاں دی جاتی رہیں، اسے چور اور جعلی کہا گیا، عمران خان طاہرالقادری کو مبارکباد دیتے رہے، اپنی غلطیاں دوسروں پر نہ تھوپیں، آپ نے جو نفرت کے بیج بوئے اس کا پھل کاٹ رہے ہیں، ٹی وی ٹاک شوز میں طمانچے مارے جاتے ہیں، آج آپ جو اس نظام کا حصہ ہیں تو اس میں اسپیکر صاحب کا کردار ہے، آپ نے استعفے دئیے تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے استعفوں سے گرد جھاڑ کر آپ کو گلے سے لگایا انہوںنے کہاکہجمہوریت کی کمزوری میں عمران خان کی جماعت کا کردار تھا ،ْ ہم سب جانتے ہیں کہ یہاں پر امپائر امپائر کی آوازیں کون نکالتا تھا۔

انہوںنے کہاکہ پارلیمان کی تمام سیاسی جماعتوں کے لئے مغلظات کا استعمال کیا گیا‘ پارلیمان کا جنگلا توڑا گیا۔ انہوںنے کہاکہ سیاست میں اختلاف ہوتا ہے نفرت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ چار حلقوں کو کھولنے کی بات کی گئی ہے‘ اس راستے سے کون واپس ہوا ہے وہ سب کو یاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تحریک انصاف کے اراکین نے استعفے دیئے تو مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے استعفوں سے گرد جھاڑ کر انہیں واپس ایوان میں لانے میں کردار ادا کیا ۔

اس ایوان کی جماعتوں نے ان کے مینڈیٹ کا احترام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو اپنے الفاظ یاد رکھنے چاہئیں۔ یہاں جہانگیر ترین کی نااہلی کی بات ہوئی تو میں نے اس کی مخالفت کی تھی اور یہ کہا تھا کہ پچھلے دروازوں سے لوگوں کو نکالنے کی پالیسی درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی غلطیاں اور خرابیاں دوسروں پر ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے۔