فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ فاٹا کے عوام کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے

جے یو آئی (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان کی فاٹا اصلاحات کے حوالے سے 31 ویں آئینی ترمیم کی مخالفت

جمعرات مئی 16:07

فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ فاٹا کے عوام کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے
اسلام آباد۔ 24 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) جے یو آئی (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان نے فاٹا اصلاحات کے حوالے سے 31 ویں آئینی ترمیم کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ فاٹا کے عوام کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر عبدالقہار ودان نے کہا کہ یہ بل مشترکہ نہیں ہے۔

یہ فاٹا کے عوام کی قسمت کا فیصلہ ہے یہ فیصلہ قبائلی علاقوں کے عوام نے کرنا ہے۔

(جاری ہے)

ہم بل کے خلاف شدید احتجاج کریں گے۔ محمد جمال الدین نے کہا کہ ہم آج کے دن کو تاریخی نہیں فاٹا کے حوالے سے تاریکی کا دن کہیں گے۔ حکومت جو اصلاحات لانا چاہتی تھی اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ انضمام سے فاٹا کے وسائل خیبر پختونخوا کو منتقل ہو جائیں گے۔ فاٹا کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ آج عمران خان پانچ سالوں میں پہلی بار آئے ہیں۔ وہ اپنے غیر ملکی آقائوں کے کہنے پر یہاں آئے ہیں۔ قائداعظم نے فاٹا کے عوام کی مرضی کے مطابق نظام کا وعدہ کیا تھا۔