قومی اسمبلی اجلاس،

شاہ محمود قریشی ایم کیو ایم کو 31 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر راضی کرنے میں اہم کردار ادا کیا

جمعرات مئی 16:12

قومی اسمبلی اجلاس،
ْاسلام آباد۔ 24 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں شاہ محمود قریشی ایم کیو ایم کو 31ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر راضی کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج ایک تاریخی موقع ہے ہمیں سیاسی تعصبات سے بالاترہوکر قومی مفاد کے لئے کام کرنا چاہیے۔

ایم کیو ایم کے ساتھیوں نے ہماری درخواست کو قبول کرتے ہوئے کارروائی میں حصہ لیا ہے‘ انہیں ایوان میں بات کرنے کا موقع دیا جائے۔ ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ آئینی ترمیم ہمیشہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اگر تمام جماعتوں کے اکابرین اس پر رائے نہ دیں اور ایک ہی دن میں اگر اسے منظور کیا جائے تو اسے اچھا نہیں سمجھا جائے گا۔

(جاری ہے)

فاٹا کے بارے میں ہمارا اپنا ایک الگ موقف رہا ہے‘ ہم نے سرائیکی اور فاٹا کو الگ صوبے بنانے کے بل متعارف کرائے ہیں۔ ہم نے فاٹا سے متعلق فیصلے پر ریفرنڈم کی تجویز بھی پیش کی تھی۔ ہمارا آئین نئے صوبوں کے حوالے سے مشکل ترین آئین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فاٹا کے حوالے سے حمایت کریں گے تاہم ایسا نہ ہو کہ آسمان سے گر کر کھجور میں اٹکنے والی صورتحال پیدا ہو۔ انہوں نے سندھ کے شہری علاقوں کے لئے گزشتہ دس برسوں میں وسائل کی کمی پر تنقید کی جس پر پیپلز پارٹی کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔