تاپی گیس ٹرانسپورٹیشن اورٹرانزٹ فیس معاہدوں پر رواں سال دستخط ہوںگے،سرکاری ذرائع

جمعرات مئی 16:23

تاپی گیس ٹرانسپورٹیشن اورٹرانزٹ فیس معاہدوں پر رواں سال دستخط ہوںگے،سرکاری ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) تاپی گیس ٹرانسپورٹیشن اورٹرانزٹ فیس معاہدوں پر رواں سال دستخط ہونگے،سرکاری ذرائع نے جمعرات کو اے پی پی کو بتایا کہ گیس ٹرانسپورٹیشن کے معاہدے پر دستخط،پائپ لائن سروسز رولز،ٹرانزٹ فیس ایگریمنٹ اور فرنٹ انڈ انجینئرنگ ڈیزائن(ایف ای ای ڈی) کام کی تکمیل سمیت تاپی منصوبے کی تمام سرگرمیوں پر 2018-19کے دوران عملدرآمد کیا جائی گا۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال فروری میں تاپی منصوبے میں نمایاں پیشرفت ہوئی اور ترکمنستان میں پائپ لائن کا کا مکمل ہونے کے بعد سرگرمیاں افغانستان منتقل کر دی گئیں۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ذرائع نے کہا کہ انٹر سٹیٹ گیس سسٹم(پی وی ٹی)لمیٹڈ کمپنی نے تاپی گیس منصوبے کے پاکستان سیکشن پر مارچ 2017 ء میں ایف ای ای ڈی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا تھا۔

(جاری ہے)

تاپی گیس منصوبے کا آغاز 90کی دہائی میں کیا گیا تھا لیکن کئی سالوں تک زیر التوا رہا لیکن موجودہ حکومت نے اس کو عملی جامہ پہنایا جو موجودہ حکومت کی گیس درآمد سے متعلق نیشنل انرجی پالیسی کا اہم جزوہے۔انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ تاپی گیس منصوبے سے سستی،قابل بھروسہ،اور ماحول دوست توانائی فراہم ہو جائی گی جس سے خطے کی اقتصادی و سماجی ترقی میں اضافہ ہو گا۔

منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پائپ لائن سے ملک میں توانائی کی پیداواری صلاحیت اور روز گار کے نئے مواقع میں اضافہ ہو گا۔منصوبے کے تحت 56انچ قطر کی 1680کلومیٹرز طویل پائل لائن ترکمانستان،سے افغانستان،،،پاکستان اور پاک بھارت سرحد تک بچھائی جائیگی جس کے زریعی3.2ارب مکعب فٹ یومیہ گیس فراہم کی جائے گی۔منصوبہ 2020 میں مکمل ہو گا۔۔پاکستان اور بھارت کو 1.325ارب مکعب فٹ یومیہ گیس فراہم کی جائیگی۔