عمران خان نے اپنی مقبولیت کے عروج پر ہونے کے باوجود بھی الیکشن جیتنے کے لیے الیکٹیبلز کی ضرورت پڑنے کی وجہ بتا دی

جب پہلی بار الیکشن لڑا تو الیکشن جیتنے کی سائنس نہیں آتی تھی،ابھی بھی پاکستان کے کئی شہروں اور دیہاتوں میں الیکشن لڑنے کے لیے طاقت ور آدمی آگے لانا پڑتا ہے، پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی دوران پروگرام گفتگو

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات مئی 15:42

عمران خان نے اپنی مقبولیت کے عروج پر ہونے کے باوجود بھی الیکشن جیتنے ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔24مئی 2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ جب انہوں نے پہلی بار الیکشن لڑا تھا تب انہیں الیکشن جیتنے کی سائنس نہیں آتی تھی،،عمران خان کا کہنا ہے کہ پارٹی کی مقبولیت کی وجہ سے لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں۔ الیکٹیبلز کو پارٹی کے کچھ لوگ پسند کرتے ہیں اور کچھ پسند نہیں کرتے۔

ہمارا ورکر ہمیں بتاتا ہے کہ کون سا الیکٹیبل کرپٹ ہے اور کون سا نہیں ہے۔اور پارٹی میں ٹکٹ کی تقسیم کا فیصلہ پارلیمانی بوڑد کرے گا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں پروگرام اینکر ندیم ملک نے پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان سے سوال کیا کہ آپ اس وقت سیاسی طور پر عورج پر ہیں لیکن اس کے باوجود بھی آپ کو الیکٹیبلز کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہیں۔

(جاری ہے)

جس کا جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ جب میں نے 1997ء میں پہلی بار الیکشن لڑا تھا تو اس وقت مجھے سمجھ نہیں تھی۔کیونکہ میں کبھی پاکستان میں الیشکن نہیں لڑا تھا۔مجھے لگا تھا کہ ا گر سیاست میں نئے لوگ آئیں گے توپبلک نکلے گی اور ان کو ووٹ ڈالے گی۔مجھے الیکشن لڑنے کی سائنس نہیں آتی تھی۔میں نے انگلینڈ کے الیکشن دیکھے تھے اور اگر میں انگلینڈ میں بطور امیدوار کھڑا ہوتا تو وہاں میرے جیتنے کے چانسز بھی تھے۔

کیونکہ وہاں الیکشن لڑنے کے لیے پولنگ ایجنٹ نہیں چاہئیے ہوتے۔نہ ہی لوگوں کو پولنگ اسٹیشن پر لانا پڑتا ہے۔وہاں لوگ آتے ہیں اور ووٹ دے کر چلے جاتے ہیں۔اور ایسے میں دھاندلی کی بھی کوئی فکر نہیں ہوتی۔۔عمران خان کا کہنا ہے کہ جب 1970میں ذوالفقار علی بھٹو نے الیکشن لڑے تھے تب انتخابی نظام کچھ اور تھا،تب صاف شفاف الیکشن ہوئے تھے۔تب ہماری بیوروکریسی عروج پر تھی اور کسی نے نہیں کہا تھا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔لیکن اس کے بعد سیاسی نظام تباہ ہوتا گیا۔۔عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے انتخابات کو کاروبار بنا دیا ہے۔اور اب پاکستان کے کئی شہروں اور دیہاتوں میں الیکشن لڑنے کے لیے طاقت ور آدمی لانا پڑتا ہے۔