احتساب عدالت میں کس نے نواز شریف کے ہاتھ چومے؛کون رونے کی اداکاری کرتا رہا ؟ کمرہ عدالت میں موجود صحافی کے اہم انکشاف

کمرہ عدالت میں ن لیگی رہنما جاوید لطیف نے نواز شریف کے ہاتھ چھومے،جب کہ ایک رہنما رونے کی اداکاری کرتے رہے۔کمرہ عدالت میں موجود صحافی کی گفتگو

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات مئی 16:11

احتساب عدالت میں کس نے نواز شریف کے ہاتھ چومے؛کون رونے کی اداکاری کرتا ..
اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔24 مئی 2018ء) نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر صدیقی جان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت کمرہ عدالت میں دلچسپ صورتحال دیکھنے کو ملی۔۔پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما مشاہد حسین سید نے کمرہ عدالت میں آتے ہی اونچی اونچی نواز شریف کی تعریفیں کرنا شروع کر دیں۔

جس پر عدالتی عملے سے مشاہ حسین سید کو ڈانٹ بھی پڑی۔لیکن اس کے باوجود بھی وہ نواز شریف کی تعریفیں کرتے رہے۔اور جب نواز شریف روسٹرم پر آئے اور انہوں نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے اوپر الزامات لگانا شروع کیے تو مشاہد حسین سید سر ہلا کر ان الزامات کی تائید کرتے رہے۔اس کے علاوہ جب نواز شریف اپنا بیان ختم کر کے واپس آئے تو پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے نواز شریف کے ہاتھ چھوم لیے۔

(جاری ہے)

اور اس کے علاوہ بھی دو رہنماؤں نے نواز شریف کے ہاتھ چومے۔جب کہ ایک ن لیگی رہنما نے تو باقاعدہ رونے کی اداکاری کی اور ان کی پوری کوشش تھی کہ نواز شریف کے سامنے ان کے آنسو نکل آئیں۔جب کہ مریم نواز موبائل فون پر مصرورف رہیں جب کہ طاہرہ اورنگزیب مریم نواز کے سر پر کھڑے ہو کر قرآن پاک پڑھتی رہیں۔جب کہ کیپٹن (ر) صفدر عدالت میں کر کاٹتے رہے اور ان کو بیٹھنے کی جگہ نہ ملی۔

نیب کورٹ میں کسی ن لیگی رہنما نے شریف خاندان کے داماد کو بیٹھنے کی جگہ نہ دی۔ کمرہ عدالت میں چونکہ جگہ کم ہوتی ہے اس لیے باقی رہنما سیٹوں پر براجمان تھے۔اس لیے کیپٹن صفدر (ر) تسبیح لے کر عدالت میں ورد کرتے رہے۔وظائف پڑھتے رہے اور کمرہ عدالت میں چکر کاٹتے رہے۔لیکن ان کو کمرہ عدالت میں بیٹھنے کی جگہ نہ ملی۔کسی بھی ن لیگی رہنما نے نواز شریف کے دامادکو کرسی دینے کی زحمت نہ کی۔کمرہ عدالت میں مریم نواز کے ارد گرد بھی خواتین رہنماؤں کا ایک جھرمٹ تھا۔اور وفاقی خواتین وزرا مریم نواز کے گرد سیٹوں پر براجمان تھیں۔اور مریم نواز کے ساتھ بھی جگہ موجود نہیں تھی ورنہ کیپٹن (ر) صفدر وہیں بیٹھ جاتے۔