قومی اسمبلی میں فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے حوالے سے 31ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور

خیبرپختونخوا اسمبلی میں فاٹا کی 16 عام ‘ 4 خواتین اور اقلیتوں کے لئے ایک نشست مختص کی گئی ہے‘ فاٹا میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن عام انتخابات 2018ء کے بعد ایک سال کے اندر کرایا جائے گا

جمعرات مئی 16:55

قومی اسمبلی میں فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے حوالے سے 31ویں آئینی ..
اسلام آباد۔ 24 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) قومی اسمبلی نے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے حوالے سے 31ویں آئینی ترمیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری دے دی ہے جس کے تحت خیبرپختونخوا اسمبلی میں فاٹا کی 16 عام ‘ 4 خواتین اور اقلیتوں کے لئے ایک نشست مختص کی گئی ہے‘ فاٹا میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن عام انتخابات 2018ء کے بعد ایک سال کے اندر کرایا جائے گا۔

جمعرات کو وزیر قانون محمود بشیر ورک نے دستور 31ویں ترمیم بل 2018ء کو زیر غور لانے کی تحریک ایوان میں پیش کی ۔۔قومی اسمبلی نے بل کو زیر غور لانے کی تحریک کی منظوری دے دی۔ اس طرح پہلی خواندگی کا عمل مکمل ہونے پر سپیکر نے یکے بعد دیگرے بل کی تمام شقوں کی منظوری حاصل کرنے سے قبل ہال کے داخلی راستوں کو بند کرنے کا حکم دیا۔

(جاری ہے)

اس طرح بل کی مختلف شقوں کے حق اور مخالفت میں ارکان کو باری باری کھڑا کرکے رائے حاصل کی۔

بل کی بعض شقوں کے حق میں 229 ‘ 230 اور 231 ارکان نے جبکہ بل کی مخالفت میں 11 ‘ 3 اور ایک ارکان نے یکے بعد دیگرے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر قانون نے تیسری خاندگی کے طور پر جب بل کو منظور کرنے کی تحریک ایوان میں پیش کی تو سپیکر کے حکم پر ایوان کے داخلی راستے بند کردیئے گئے اور سپیکر نے ارکان کو ہدایت کی کہ بل اوپن ڈویژن کے ذریعے منظور کیا جائے گا جس کے لئے بل کے حق میں رائے دینے والے ارکان ان کے دائیں جانب موجود لابی میں جائیں گے اور بل کی مخالفت میں رائے کا اظہار کرنے والے ارکان ان کی بائیں جانب لابی میں جائیں گے۔

اس کے بعد سپیکر کے کہنے پر تمام ارکان باری باری اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لئے سپیکر کے دائیں جانب اور بائیں جانب قائم لابیوں میں گئے۔ رائے شماری کا عمل مکمل ہونے پر سپیکر نے اعلان کیا کہ بل کے حق میں مجموعی طور پر 229 ارکان نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے جبکہ مخالفت میں صرف ایک ووٹ آیا ہے۔ اس طرح قومی اسمبلی نے دو تہائی اکثریت سے فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے حوالے سے آئینی ترمیم کا بل منظور کرلیا۔

فاٹا کے صوبہ خیبرپختونخوا میں انضمام کے حوالے سے 31ویں آئینی ترمیم 2018ء کے نام سے موسوم بل کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 1 ‘ آرٹیکل51‘ آرٹیکل 59‘ آرٹیکل 62‘ آرٹیکل 106‘ آرٹیکل 155 ‘ آرٹیکل 246 اور آرٹیکل 247 میں ترامیم کی گئی ہیں۔ آرٹیکل 51 میں کی گئی ترمیم کے تحت قومی اسمبلی کے اراکین کی تعداد 342 کی بجائے 326 ہو جائے گی۔ بل کے تحت فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ اپنی آئینی مدت پوری کریں گے۔

صوبہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں بل کے تحت فاٹا کو 16 عام نشستیں ‘ خواتین کی چار مخصوص نشستیں اور ایک غیر مسلم نشست فراہم کی گئی ہے مگر شرط یہ عائد کی گئی ہے کہ مذکورہ بالا نشستوں پر 2018ء کے عام انتخابات کے بعد ایک سال کے اندر منعقد کئے جائیں گے جبکہ فاٹا کی قومی اسمبلی اور سینٹ کی موجودہ نشستیں قومی اسمبلی کی تحلیل تک برقرار رہیں گی جس کے بعد یہ شق حذف تصور کی جائے گی۔

واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے 2017ء میں اپنے ابتدائی اجلاس میں فاٹا کی صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کی منظوری دی تھی اور دستور 30ویں ترمیم بل 2017ء قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا جو کہ اب تک مجلس قائمہ میں زیر التواء ہے۔ اس بل کو اب واپس لے لیا جائے گا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنمائوں اور قبائلی علاقہ جات کے نمائندگان کے تحت مشاورت سے اس پر دوبارہ غور و خوض کے لئے کابینہ نے 22مئی 2017ء کو منعقد ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ صوبے کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کو متعلقہ صوبے کے ساتھ اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کو صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ضم کرنے کے لئے جامع بل تیار کیا جائے تاکہ قبائلی علاقہ جات کے عوام کو قومی دھارے میں لایا جاسکے۔

اس کے تحت دستور 31ویں ترمیم بل 2018ء تیار کیا گیا۔ بل کی مخالفت کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کی رکن نعیمہ کشور خان نے کہا کہ ہم کہتے ہیں فاٹا کے عوام کی رائے کو عزت دو۔ اس بل میں قواعد و ضوابط کا خیال نہیں رکھا جارہا۔ یہ صرف فاٹا نہیں بلکہ پاٹا پر بھی لاگو ہو رہا ہے۔ ہلال الرحمان نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے انضمام نہیں اصلاحات مانگی تھیں۔

آج اصلاحات پیچھے چلی گئی ہیں اور انضمام پر سب کا زور ہے۔ عمران خان نے جنوبی پنجاب کے لئے صوبے کی بات کی ہے۔ انہیں فاٹا کو 100 دن کے پیکج میں شامل کرنا چاہیے جس کی ایک الگ حیثیت موجود ہے۔ فاٹا کے زمینی حقائق بہت مختلف ہیں۔ فاٹا کو الگ صوبہ یا تشخص دیا جائے۔ تحریک انصاف کے داور کنڈی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کو انضمام کی بجائے نیا صوبہ بنایا جائے۔ بل کی شاہدہ اختر علی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے عبدالقہار ودان نے بھی مخالفت کی