دونوں اپنے سیاسی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دے رہے ہیں ،ْشاہ محمود قریشی

جمعرات مئی 17:01

دونوں اپنے سیاسی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دے رہے ہیں ،ْشاہ محمود ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان نے فاٹا اصلاحات کے حوالے سے 31 ویں آئینی ترمیم کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ فاٹا کے عوام کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر عبدالقہار ودان نے کہا کہ یہ بل مشترکہ نہیں ہے ،ْیہ فاٹا کے عوام کی قسمت کا فیصلہ ہے یہ فیصلہ قبائلی علاقوں کے عوام نے کرنا ہے۔

ہم بل کے خلاف شدید احتجاج کریں گے۔ محمد جمال الدین نے کہا کہ ہم آج کے دن کو تاریخی نہیں فاٹا کے حوالے سے تاریکی کا دن کہیں گے ،ْحکومت جو اصلاحات لانا چاہتی تھی اس پر عمل نہیں کیا گیا ،ْ انضمام سے فاٹا کے وسائل خیبر پختونخوا کو منتقل ہو جائیں گے۔

(جاری ہے)

فاٹا کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ آج عمران خان پانچ سالوں میں پہلی بار آئے ہیں۔ وہ اپنے غیر ملکی آقائوں کے کہنے پر یہاں آئے ہیں۔

قائداعظم نے فاٹا کے عوام کی مرضی کے مطابق نظام کا وعدہ کیا تھا۔ فاٹا سے رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور جے یو آئی (ف) کے ارکان اپنے وعدے سے منحرف ہو کر فاٹا انضمام کی مخالفت کر رہے ہیں۔حاجی شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ فاٹا ریفارمز نیشنل ایکشن پلان کا حصہ تھیں جن پر جے یو آئی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان کے دستخط تھے۔

آج وہ اپنے وعدوں سے پھر رہے ہیں۔ یہ لوگ بولان سے چترال تک پشتونوں کو ایک کرنے کے نعرے لگا رہے تھے آج جب وہ ایک ہو رہے ہیں تو یہ لوگ ان کے خلاف ہیں۔۔پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی پر الزام عائد کیا کہ دونوں اپنے سیاسی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دے رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ڈیڑھ سال تک قبائلی علاقوں اور فاٹا کے لوگوں کو محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن نے ایف سی آر میں جکڑے رکھا۔ یہ دو شخصیات اپنی سیاست کو قومی مفادات پر ترجیح دے رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ ارکان کی تعداد اگر پوری ہو تو گنتی کی جائے۔ انہوں نے کا کہ آج ہم جس مقصد کے لئے آئے ہیں اس کے تحت کراس فائرنگ سے گریز کرنا چاہیے۔

حکومت نے فاٹا ریفارمز کے حوالے سے اچھی کوششیں کی ہیں لیکن اگر پہلے ہوتیں تو معاملہ اب تک حل ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں ملاکنڈ کے لئے ٹیکس سے استثنیٰ کی مدت کو دس سال تک کیا جائے اور ملاکنڈ ڈویژن کے لئے بھی پیکج دیا جائے۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج ایک تاریخی موقع ہے ہمیں سیاسی تعصبات سے بالاترہوکر قومی مفاد کے لئے کام کرنا چاہیے۔

ایم کیو ایم کے ساتھیوں نے ہماری درخواست کو قبول کرتے ہوئے کارروائی میں حصہ لیا ہے‘ انہیں ایوان میں بات کرنے کا موقع دیا جائے۔ ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ آئینی ترمیم ہمیشہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اگر تمام جماعتوں کے اکابرین اس پر رائے نہ دیں اور ایک ہی دن میں اگر اسے منظور کیا جائے تو اسے اچھا نہیں سمجھا جائے گا۔

فاٹا کے بارے میں ہمارا اپنا ایک الگ موقف رہا ہے‘ ہم نے سرائیکی اور فاٹا کو الگ صوبے بنانے کے بل متعارف کرائے ہیں۔ ہم نے فاٹا سے متعلق فیصلے پر ریفرنڈم کی تجویز بھی پیش کی تھی۔ ہمارا آئین نئے صوبوں کے حوالے سے مشکل ترین آئین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فاٹا کے حوالے سے حمایت کریں گے تاہم ایسا نہ ہو کہ آسمان سے گر کر کھجور میں اٹکنے والی صورتحال پیدا ہو۔ انہوں نے سندھ کے شہری علاقوں کے لئے گزشتہ دس برسوں میں وسائل کی کمی پر تنقید کی جس پر پیپلز پارٹی کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :